یہ آرزو ہیں ہم کوئی آرزو کرتے
یہ آرزو ہیں ہم کوئی آرزو کرتے
اسیر خود کو نہ ہم دام رنگ و بو کرتے
عتاب بیں جو ہمارے ہیں نکتہ چیں ہم پر
کہیں جو ملتے تو ہم کھل کے گفتگو کرتے
وہ آئنہ جو کرے حرف گیرئ کردار
جو ہاتھ آئے تو لوگوں کے روبرو کرتے
کہیں سراغ خلوص و وفا اگر ملتا
تو اپنی ذات کو ہم وقف جستجو کرتے
ہم آج اشک بداماں جو ہیں تو رونا کیا
تمام عمر ہی گزری ہے ہا و ہو کرتے
مثال آئنہ رکھتے جو دل میں عکس جمیل
کبھی تباہ نہ شیشے کی آبرو کرتے
خراب ہوتے خرابے میں اور کیا ہوتا
حضور ساقی اگر ہم سبو سبو کرتے
ہمیں بھی کاش جو توفیق ایزدی ہوتی
تو ہم بھی کوثر و تسنیم سے وضو کرتے
یقیں جو ہوتا کہ ہوں گے ہلاک صدق و وفا
تو اہتمام سے مرنے کی آرزو کرتے
ہمیں بھی راس جو آتی شگفتگی دل کی
تو لیثؔ ہم بھی کبھی جرأت نمو کرتے