طارق عثمانی کی غزل

    کچھ اس طرح سے وہ میرے نزدیک آ رہا تھا

    کچھ اس طرح سے وہ میرے نزدیک آ رہا تھا دیے کی لو بجھ رہی تھی میں جلتا جا رہا تھا وہ رک گیا جب سبق کا عنوان عشق آیا جو زندگی کا نصاب مجھ کو پڑھا رہا تھا میں اب کے اندر سے کر رہا تھا بدن کو چھلنی سو بس تصور میں اس کا ماتم منا رہا تھا پھر ایک دن خون بن کے آنکھوں سے چیخ نکلی میں اپنی ...

    مزید پڑھیے

    مجھے عجلتوں میں نہ پڑھ ذرا مجھے وقت دے

    مجھے عجلتوں میں نہ پڑھ ذرا مجھے وقت دے میں ہوں مدتوں میں لکھا ہوا مجھے وقت دے مجھے ہوش آنے دے ہم سفر میں ہوں بے خبر مجھے وقت دے ابھی ٹھہر جا مجھے وقت دے مجھے آب و دانائے ہوش دے ابھی صبر رکھ وہ زمین عقل پہ اگ رہا مجھے وقت دے کوئی شکل دے مجھے اے مصور دل فگار مجھے کینوس پہ اتار آ ...

    مزید پڑھیے

    جس طرح جھیل کے پانی میں سکوں تیرتا ہے

    جس طرح جھیل کے پانی میں سکوں تیرتا ہے میری آنکھوں میں ترا عکس بھی یوں تیرتا ہے یوں ملوں تجھ سے کہ کچھ دیر میں تجھ سا ہو جاؤں گر کے دریا میں ذرا دیر ہی خوں تیرتا ہے جب بھی آواز لگاتا ہوں کہ تو ہے یا نہیں میرے اندر تری آواز میں ہوں تیرتا ہے جوش میں آ تو گیا ہجر کے سمندر تک دیکھنا ہے ...

    مزید پڑھیے

    رواں ہے مجھ میں ابھی تک وہ انتقام کی شام

    رواں ہے مجھ میں ابھی تک وہ انتقام کی شام ترے بغیر گزاری جو تیرے نام کی شام ٹھہر گئی ہے یوں مجھ میں ترے خرام کی شام کہ جیسے گرد سفر محو ہو قیام کی شام ستارہ زاد نے جس شب جبیں کو چوما تھا طویل گزری تھی اس شب کے انتظام کی شام یہ مصلحت کا تقاضہ ہے یا جنوں میرا گزار دی ہے سفر میں جو ...

    مزید پڑھیے

    بس یہی مسئلہ ہے دونوں کا

    بس یہی مسئلہ ہے دونوں کا عشق یہ دوسرا ہے دونوں کا اس لیے احتیاط حاوی ہے ایک سا تجربہ ہے دونوں کا وصل کی لذتیں بھی چاہتے ہیں دل بھی اکتا رہا ہے دونوں کا پھر اشاروں میں بات کیسے ہو ایک ہی زاویہ ہے دونوں کا لڑتے رہتے ہیں ذہن و دل ہر وقت جانے کیا مسئلہ ہے دونوں کا دونوں کردار ایک ...

    مزید پڑھیے

    کہرہ اوڑھے ٹہل رہی تھی جھیل پہ گہری خاموشی

    کہرہ اوڑھے ٹہل رہی تھی جھیل پہ گہری خاموشی پھر سورج نے دھوپ بچھائی تب کچھ ٹھہری خاموشی شب کی ساڑی پہن کے سینے پر بل کھاتی ہے میرے دن کا آنچل اوڑھ کے شرماتی ہے سنہری خاموشی گاؤں کی اس خاموشی میں اک لذت تھی البیلی سی کمرہ کمرہ گھونٹ رہی ہے ہر پل شہری خاموشی گم ہو گئیں ہیں میری ...

    مزید پڑھیے

    جستجو منزل ادراک سے وابستہ ہے

    جستجو منزل ادراک سے وابستہ ہے خاک درویش ابھی چاک سے وابستہ ہے میری فطرت نہیں میں غیر کے رستے پہ چلوں میری نسبت بھی میری ناک سے وابستہ ہے وہ جو آئی تھی مرے سائیں کے قدموں کے تلے میری ہستی تو اسی خاک سے وابستہ ہے تو کبھی روح سے انصاف نہیں کر سکتا تیری درویشی تو پوشاک سے وابستہ ...

    مزید پڑھیے

    کل رات صحن دل میں تھا ہرجائیوں کا رقص

    کل رات صحن دل میں تھا ہرجائیوں کا رقص تھی وحشتوں کی تھاپ پچھل پائیوں کا رقص منظوم ہو رہی تھی خموشی بہ فیض ہجر تھا ذہن میں حروف کی پرچھائیوں کا رقص اس کی خوشی مناؤں یا افسوس نہ کروں ہے شہرتوں کے ساز پہ رسوائیوں کا رقص یہ وہ زمانہ ہے نہیں جس کی کوئی مثال یاں بھائیوں کے قتل پہ ہے ...

    مزید پڑھیے

    تیرے لہجے میں یہ جو شدت ہے

    تیرے لہجے میں یہ جو شدت ہے یہ کوئی ان کہی شکایت ہے ہجر کے دکھ پہ یار حیرت کیا مستقل وصل بھی اذیت ہے تجھ کو اب بھولنے لگا ہوں میں یہ شکایت نہیں ہے تہمت ہے خوشبوؤں سے بنائیں گے تم کو رنگ سے تو بڑی سہولت ہے دیکھا جائے تو مر چکے ہیں ہم سانس لینا تو بس ضرورت ہے تو مرا ہے تو میرے درد ...

    مزید پڑھیے

    میری آوارہ مزاجی کو مکمل کر دے

    میری آوارہ مزاجی کو مکمل کر دے اے خدا دشت تمنا مرا مقتل کر دے ٹوٹتے بنتے عناصر میں ہو تحریک کمال یا مجھے خاک بنا یا مجھے جل تھل کر دے نہ سہی لالہ و گل نالۂ بلبل نہ سہی مجھ کو گلشن نہیں کرتا ہے تو جنگل کر دے دل کو جھلساتا ہے اک یاد کا سورج کب سے یا خدا اب تو کسی خواب کو بادل کر ...

    مزید پڑھیے