کہرہ اوڑھے ٹہل رہی تھی جھیل پہ گہری خاموشی

کہرہ اوڑھے ٹہل رہی تھی جھیل پہ گہری خاموشی
پھر سورج نے دھوپ بچھائی تب کچھ ٹھہری خاموشی


شب کی ساڑی پہن کے سینے پر بل کھاتی ہے میرے
دن کا آنچل اوڑھ کے شرماتی ہے سنہری خاموشی


گاؤں کی اس خاموشی میں اک لذت تھی البیلی سی
کمرہ کمرہ گھونٹ رہی ہے ہر پل شہری خاموشی


گم ہو گئیں ہیں میری صدائیں کھو گئیں ہیں سب آوازیں
چیخیں تک بھی سنتی نہیں ہے ہائے یہ بھری خاموشی


یادیں گواہ ہیں جذبے قیدی ہجر ہے منصف وقت وکیل
روز لگاتی ہے اس دل میں عشق کچہری خاموشی


من مندر میں دھیان مگن ہے اک تیرا سچا سادھو
اور سادھو کے پھیرے لیتی جوگن گہری خاموشی


صبح کے منظر جھلس گئے ہیں شام کی جھیلیں صدیوں دور
ہجر کی دھن پر رقص کناں ہے گرم دوپہری خاموشی