جس طرح جھیل کے پانی میں سکوں تیرتا ہے

جس طرح جھیل کے پانی میں سکوں تیرتا ہے
میری آنکھوں میں ترا عکس بھی یوں تیرتا ہے


یوں ملوں تجھ سے کہ کچھ دیر میں تجھ سا ہو جاؤں
گر کے دریا میں ذرا دیر ہی خوں تیرتا ہے


جب بھی آواز لگاتا ہوں کہ تو ہے یا نہیں
میرے اندر تری آواز میں ہوں تیرتا ہے


جوش میں آ تو گیا ہجر کے سمندر تک
دیکھنا ہے کہ کہاں تک یہ جنوں تیرتا ہے


دل تری یاد کے دریا سے نکلتا ہی نہیں
کھینچ لیتی ہے تہہ آب یہ جوں تیرتا ہے


کیا ہوا عقل ٹھکانے پہ آ گئی پیارے
ڈوبنے کے لئے کودا ہے تو کیوں تیرتا ہے