جستجو منزل ادراک سے وابستہ ہے

جستجو منزل ادراک سے وابستہ ہے
خاک درویش ابھی چاک سے وابستہ ہے


میری فطرت نہیں میں غیر کے رستے پہ چلوں
میری نسبت بھی میری ناک سے وابستہ ہے


وہ جو آئی تھی مرے سائیں کے قدموں کے تلے
میری ہستی تو اسی خاک سے وابستہ ہے


تو کبھی روح سے انصاف نہیں کر سکتا
تیری درویشی تو پوشاک سے وابستہ ہے


تختۂ دار پہ چڑھ جائے گی سچ کی خاطر
یہ زباں لہجۂ بے باک سے وابستہ ہے


ہوش والو کو یہ حاصل نہیں ہوتی ہے میاں
یہ خوشی دیدۂ نمناک سے وابستہ ہے


ہم زمیں پر نہیں چلتے کبھی تن کر طارقؔ
دل یہاں ہے مگر افلاک سے وابستہ ہے