مجھے عجلتوں میں نہ پڑھ ذرا مجھے وقت دے

مجھے عجلتوں میں نہ پڑھ ذرا مجھے وقت دے
میں ہوں مدتوں میں لکھا ہوا مجھے وقت دے


مجھے ہوش آنے دے ہم سفر میں ہوں بے خبر
مجھے وقت دے ابھی ٹھہر جا مجھے وقت دے


مجھے آب و دانائے ہوش دے ابھی صبر رکھ
وہ زمین عقل پہ اگ رہا مجھے وقت دے


کوئی شکل دے مجھے اے مصور دل فگار
مجھے کینوس پہ اتار آ مجھے وقت دے


غم عشق مجھ کو معاف کر کہ میں ہوں ابھی
غم روزگار میں مبتلا مجھے وقت دے


مجھے رکھ کے چاک پہ بھول مت میرے کوزہ گر
میرے خال و خد بھی بنا ذرا مجھے وقت دے


مجھے حیرتوں سے نکال دے مجھے چھو کے دیکھ
میرے یار ہوش میں آ ذرا مجھے وقت دے