طارق عثمانی کے تمام مواد

10 غزل (Ghazal)

    کچھ اس طرح سے وہ میرے نزدیک آ رہا تھا

    کچھ اس طرح سے وہ میرے نزدیک آ رہا تھا دیے کی لو بجھ رہی تھی میں جلتا جا رہا تھا وہ رک گیا جب سبق کا عنوان عشق آیا جو زندگی کا نصاب مجھ کو پڑھا رہا تھا میں اب کے اندر سے کر رہا تھا بدن کو چھلنی سو بس تصور میں اس کا ماتم منا رہا تھا پھر ایک دن خون بن کے آنکھوں سے چیخ نکلی میں اپنی ...

    مزید پڑھیے

    مجھے عجلتوں میں نہ پڑھ ذرا مجھے وقت دے

    مجھے عجلتوں میں نہ پڑھ ذرا مجھے وقت دے میں ہوں مدتوں میں لکھا ہوا مجھے وقت دے مجھے ہوش آنے دے ہم سفر میں ہوں بے خبر مجھے وقت دے ابھی ٹھہر جا مجھے وقت دے مجھے آب و دانائے ہوش دے ابھی صبر رکھ وہ زمین عقل پہ اگ رہا مجھے وقت دے کوئی شکل دے مجھے اے مصور دل فگار مجھے کینوس پہ اتار آ ...

    مزید پڑھیے

    جس طرح جھیل کے پانی میں سکوں تیرتا ہے

    جس طرح جھیل کے پانی میں سکوں تیرتا ہے میری آنکھوں میں ترا عکس بھی یوں تیرتا ہے یوں ملوں تجھ سے کہ کچھ دیر میں تجھ سا ہو جاؤں گر کے دریا میں ذرا دیر ہی خوں تیرتا ہے جب بھی آواز لگاتا ہوں کہ تو ہے یا نہیں میرے اندر تری آواز میں ہوں تیرتا ہے جوش میں آ تو گیا ہجر کے سمندر تک دیکھنا ہے ...

    مزید پڑھیے

    رواں ہے مجھ میں ابھی تک وہ انتقام کی شام

    رواں ہے مجھ میں ابھی تک وہ انتقام کی شام ترے بغیر گزاری جو تیرے نام کی شام ٹھہر گئی ہے یوں مجھ میں ترے خرام کی شام کہ جیسے گرد سفر محو ہو قیام کی شام ستارہ زاد نے جس شب جبیں کو چوما تھا طویل گزری تھی اس شب کے انتظام کی شام یہ مصلحت کا تقاضہ ہے یا جنوں میرا گزار دی ہے سفر میں جو ...

    مزید پڑھیے

    بس یہی مسئلہ ہے دونوں کا

    بس یہی مسئلہ ہے دونوں کا عشق یہ دوسرا ہے دونوں کا اس لیے احتیاط حاوی ہے ایک سا تجربہ ہے دونوں کا وصل کی لذتیں بھی چاہتے ہیں دل بھی اکتا رہا ہے دونوں کا پھر اشاروں میں بات کیسے ہو ایک ہی زاویہ ہے دونوں کا لڑتے رہتے ہیں ذہن و دل ہر وقت جانے کیا مسئلہ ہے دونوں کا دونوں کردار ایک ...

    مزید پڑھیے

تمام