بس یہی مسئلہ ہے دونوں کا
بس یہی مسئلہ ہے دونوں کا
عشق یہ دوسرا ہے دونوں کا
اس لیے احتیاط حاوی ہے
ایک سا تجربہ ہے دونوں کا
وصل کی لذتیں بھی چاہتے ہیں
دل بھی اکتا رہا ہے دونوں کا
پھر اشاروں میں بات کیسے ہو
ایک ہی زاویہ ہے دونوں کا
لڑتے رہتے ہیں ذہن و دل ہر وقت
جانے کیا مسئلہ ہے دونوں کا
دونوں کردار ایک سے ہیں مگر
منفرد واقعہ ہے دونوں کا
ہم تو دونوں ہی پیر زادے ہیں
ایک ہی سلسلہ ہے دونوں کا