کیا شکوہ کریں تہمت بے بال و پری کا
کیا شکوہ کریں تہمت بے بال و پری کا ہر دن ہے شب زلف کی بیداد گری کا رہنے دو ابھی بام پہ کھلتی ہوئی آنکھیں منظر یہ مرے سامنے ہے خوش نظری کا اک ہاتھ بلاوے کے لئے روزن جاں میں اک ہاتھ علامت ہے کسی سبز پری کا احساس پشیمانیٔ احباب نہ پوچھو ہر ایک کو یاں غم ہے فقط بے ہنری کا دیوار و در ...