Khumar Qureshi

خمار قریشی

خمار قریشی کی غزل

    کیا شکوہ کریں تہمت بے بال و پری کا

    کیا شکوہ کریں تہمت بے بال و پری کا ہر دن ہے شب زلف کی بیداد گری کا رہنے دو ابھی بام پہ کھلتی ہوئی آنکھیں منظر یہ مرے سامنے ہے خوش نظری کا اک ہاتھ بلاوے کے لئے روزن جاں میں اک ہاتھ علامت ہے کسی سبز پری کا احساس پشیمانیٔ احباب نہ پوچھو ہر ایک کو یاں غم ہے فقط بے ہنری کا دیوار و در ...

    مزید پڑھیے

    گھر میں کیسا شفقستاں کا سماں تھا پہلے

    گھر میں کیسا شفقستاں کا سماں تھا پہلے موج‌ صد رنگ میں بے خواب جہاں تھا پہلے کس کھنڈر میں ہمیں محبوس ہوا لے آئی شب کے سینے میں بھی محفوظ مکاں تھا پہلے بادباں کشتیاں پھر موج ہوا کی رونق کون کس حال میں اور کون کہاں تھا پہلے زینۂ شام پہ رکھا ہے چراغ خستہ جس کی رگ رگ میں رواں زرد ...

    مزید پڑھیے

    سمٹوں کہاں سے سطح پہ دریا رواں نہیں

    سمٹوں کہاں سے سطح پہ دریا رواں نہیں اٹھتا کہاں سے موج میں تاب و تواں نہیں تھمتا نفس نفس کے اشارے قدم قدم دوڑوں میں کیسے پاؤں میں ریگ رواں نہیں پرسان شب ستارے نہیں ہیں سر فلک شوریدہ سر خلاؤں بھرا آسماں نہیں اک رنج بے کنار تموج طلب کہاں اک لطف بے بہا سر دامن گراں نہیں کیا کہئے ...

    مزید پڑھیے

    زیست کا اک گناہ کر سکے نہ ہم

    زیست کا اک گناہ کر سکے نہ ہم سانس کے واسطے بھی مر سکے نہ ہم جانے کس وہم نے قدم پکڑ لئے اس کی دھند سے گزر سکے نہ ہم شہر کی وہ گلی سکوت پا گئی چار چھ دن سے جو گزر سکے نہ ہم گنجلک خواب کا مآل دیکھتے نیند کے غار میں اتر سکے نہ ہم اس طرف بھی کشادہ ہاتھ تھے خمارؔ دشت میں جس طرف بکھر سکے ...

    مزید پڑھیے

    اندھے رستوں پر پھیلاؤں ہاتھ کہاں

    اندھے رستوں پر پھیلاؤں ہاتھ کہاں میرے نصیبوں میں تاروں کی رات کہاں ڈالی ڈالی جگنو اور شرارے ہیں ریشم کے کیڑے کی یہ اوقات کہاں اس سے ملیں اور سکھ دکھ کی باتیں کر لیں اک طریق پہ رہتے ہیں حالات کہاں رات ہوئی اور نیند جزیرے میں پہنچی بے پتوار کی کشتی میں یہ بات کہاں پچھلا موسم بے ...

    مزید پڑھیے

    مٹی کے لطف و کیف و اثر سے نکلتے ہم

    مٹی کے لطف و کیف و اثر سے نکلتے ہم موسم تھا ابر و باد کا گھر سے نکلتے ہم پھر منتقل ہوئی ہے بدن سے لہو کی آگ اس سحر گاہ سمت و سفر سے نکلتے ہم نام و نسب کی دھند میں کھوئے ہوئے ہیں سب مہمیز کرتے اور بھنور سے نکلتے ہم تیرے بغیر صبح و مسا کا حوالہ کیا اس کار گاہ شام و سحر سے نکلتے ہم تو ...

    مزید پڑھیے

    ہوا میں زور ادھر سود و زیاں کا

    ہوا میں زور ادھر سود و زیاں کا ادھر پیوند خستہ بادباں کا دریچہ کھولنے سے عار تم کو ہمیں بھی ڈر بہت ہے شہر جاں کا مرے حصے میں ہے خانہ خرابی تری قسمت میں رستہ کہکشاں کا چلو چل کر تکان اپنی اتاریں کہیں رستہ نہ کھو جائے مکاں کا کسی کے پلے کیا پڑتی کہانی ورق گم ہے ہماری داستاں ...

    مزید پڑھیے

    ہمیں نایافت لمحوں سے مفر ہوتا نہ گھر لٹتا

    ہمیں نایافت لمحوں سے مفر ہوتا نہ گھر لٹتا کہ پہلی برف باری میں کہاں زاد سفر لٹتا کبھی وہ بر سر پیکار رہتا آپ اپنے سے کبھی وہ دوسروں سے دو بہ دو زیر و زبر لٹتا تمہیں اس بات کا احساس تو ہوتا ہزیمت پر ستارے ٹوٹ کر گرتے اگر خواب سحر لٹتا یہ دیوار و در و محراب و منبر ہیچ ہیں پھر ...

    مزید پڑھیے

    آئنہ تجھ پہ ہی صیقل نہیں ارزانی کا

    آئنہ تجھ پہ ہی صیقل نہیں ارزانی کا مرحلہ صرف بچا ہے مری حیرانی کا تجھ سے مل آئے بہت پیچ بہت تاب کے بعد قرض اترا ہی نہیں دل کی پشیمانی کا چاہے جس باب سے تو مجھ کو رہائی دے دے مجھ پہ مشکل نہیں رستہ تری آسانی کا بجھ کے رہنا کبھی بے ساختہ جلنا کیا ہے خوب انداز ہے جاناں تری مہمانی ...

    مزید پڑھیے

    بہت ہوا تو مری محبت تری گلی تک سفر کرے گی

    بہت ہوا تو مری محبت تری گلی تک سفر کرے گی گلاب جیسی حکایتوں کو ادھر ادھر معتبر کرے گی یہ تیری آنکھوں کی صبح خنداں یہ تیری زلفوں کی شام امکاں بجز قیامت یہ کچھ نہیں ہے تباہ یہ سربسر کرے گی افق افق انتخاب جاناں طرف طرف رنگ و بوئے خوباں اک ایسے عالم میں شب ہماری چراغ لے کر سحر کرے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2