مٹی کے لطف و کیف و اثر سے نکلتے ہم

مٹی کے لطف و کیف و اثر سے نکلتے ہم
موسم تھا ابر و باد کا گھر سے نکلتے ہم


پھر منتقل ہوئی ہے بدن سے لہو کی آگ
اس سحر گاہ سمت و سفر سے نکلتے ہم


نام و نسب کی دھند میں کھوئے ہوئے ہیں سب
مہمیز کرتے اور بھنور سے نکلتے ہم


تیرے بغیر صبح و مسا کا حوالہ کیا
اس کار گاہ شام و سحر سے نکلتے ہم


تو منتخب ہے تجھ سے ہے یہ رنگ و بو تمام
ہاں منتشر ہیں عیب و ہنر سے نکلتے ہم


کیسا خلا ہے سینۂ انساں میں خیمہ زن
اس ماورائے نقد و نظر سے نکلتے ہم


جولاں گہہ نشاط بھی تھی غم بھی تھے خمارؔ
دیوار و در سے شاخ و شجر سے نکلتے ہم