کیا شکوہ کریں تہمت بے بال و پری کا

کیا شکوہ کریں تہمت بے بال و پری کا
ہر دن ہے شب زلف کی بیداد گری کا


رہنے دو ابھی بام پہ کھلتی ہوئی آنکھیں
منظر یہ مرے سامنے ہے خوش نظری کا


اک ہاتھ بلاوے کے لئے روزن جاں میں
اک ہاتھ علامت ہے کسی سبز پری کا


احساس پشیمانیٔ احباب نہ پوچھو
ہر ایک کو یاں غم ہے فقط بے ہنری کا


دیوار و در و سقف و ستوں فرش و دریچہ
رشتہ کسی گھر سے نہیں ہوتا سفری کا


بستی مرے احباب سے خالی ہے ابھی تک
سایہ ہے مری جاں پہ فقط بد نظری کا


جادو ہے ترے جسم کے ہر پیچ میں خم میں
نشہ ہے رگ و پے میں بھی شوریدہ سری کا


چلتے رہے تجھ تک ہی پہنچنے کے لئے سب
سب رنگ اڑا جاتا ہے نادیدہ وری کا


ان روزوں ہے بدلی ہوئی یہ طبع ہماری
اب خشک رہا کرتا ہے موسم بھی تری کا


ہم کب سر و سامان سخن سے رہے خالی
اک عمر سے یہ شغل رہا درد سری کا