اندھے رستوں پر پھیلاؤں ہاتھ کہاں
اندھے رستوں پر پھیلاؤں ہاتھ کہاں
میرے نصیبوں میں تاروں کی رات کہاں
ڈالی ڈالی جگنو اور شرارے ہیں
ریشم کے کیڑے کی یہ اوقات کہاں
اس سے ملیں اور سکھ دکھ کی باتیں کر لیں
اک طریق پہ رہتے ہیں حالات کہاں
رات ہوئی اور نیند جزیرے میں پہنچی
بے پتوار کی کشتی میں یہ بات کہاں
پچھلا موسم بے ثمری میں بیت گیا
اگلی رت میں ہاتھ آئیں گے پات کہاں
گھر جیسے پھل پھول کہاں ملتے ہیں خمارؔ
گھر سی نعمت ملتی ہے دن رات کہاں