Khumar Qureshi

خمار قریشی

خمار قریشی کی غزل

    قیمت نہیں رکھی قد و قامت نہیں رکھا

    قیمت نہیں رکھی قد و قامت نہیں رکھا ہم نے تو کوئی کار سیاست نہیں رکھا اب معجزہ ہونے سے رہا تیرے بدن سے ہم نے بھی مگر شوق رفاقت نہیں رکھا کھل کر مرے بارے میں تری رائے نہیں تھی تو نے ہی گلہ حسب روایت نہیں رکھا آنکھوں کی طرح چھت بھی ٹپکتی رہی شب بھر بارش نے مرا گھر بھی سلامت نہیں ...

    مزید پڑھیے

    مسمار شبوں کے دکھ اٹھاؤں

    مسمار شبوں کے دکھ اٹھاؤں آنکھوں کے بام و در جلاؤں چہرہ ہے کس کا استعارہ لہجے میں کسی کے دھوپ چھانو آیا ہے شگفت گل کا موسم مہکے گا کم از کم اب کے گاؤں سائے سے لپٹ کے رو پڑا میں ٹوٹے ہیں یہ کس کے ہاتھ پاؤں کل تم نے کہا تھا ساتھ دو گے اس بات کو کیسے بھول جاؤں کھائی ہے ادھر ادھر ہے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2