بہت ہوا تو مری محبت تری گلی تک سفر کرے گی

بہت ہوا تو مری محبت تری گلی تک سفر کرے گی
گلاب جیسی حکایتوں کو ادھر ادھر معتبر کرے گی


یہ تیری آنکھوں کی صبح خنداں یہ تیری زلفوں کی شام امکاں
بجز قیامت یہ کچھ نہیں ہے تباہ یہ سربسر کرے گی


افق افق انتخاب جاناں طرف طرف رنگ و بوئے خوباں
اک ایسے عالم میں شب ہماری چراغ لے کر سحر کرے گی


ہمیں ہیں واماندۂ دل و جاں ہمیں ہیں تقریب دل کا ساماں
ہمارے رستے میں دشت و صحرا کی بے نوائی بھی گھر کرے گی


ادھر نشیب عدم سے نکلے ادھر فراز عدم میں ڈوبے
ہمیں یہ دنیا فراق دے کر کسے بہشت نظر کرے گی


یہ شہر گل برگ کی ہوا بھی ہمارے حق میں سموم ٹھہری
غزل ہمیں اتنا یاد رکھنا یہ جتنا صرف نظر کرے گی