ہوا میں زور ادھر سود و زیاں کا
ہوا میں زور ادھر سود و زیاں کا
ادھر پیوند خستہ بادباں کا
دریچہ کھولنے سے عار تم کو
ہمیں بھی ڈر بہت ہے شہر جاں کا
مرے حصے میں ہے خانہ خرابی
تری قسمت میں رستہ کہکشاں کا
چلو چل کر تکان اپنی اتاریں
کہیں رستہ نہ کھو جائے مکاں کا
کسی کے پلے کیا پڑتی کہانی
ورق گم ہے ہماری داستاں کا
یہ کس سے معجزہ سرزد ہوا ہے
ہر اک در کھل گیا ہے جسم و جاں کا
سجائیں بادل نا خواستہ کیوں
زبان یار میں تختہ دکاں کا