بے نام اداسی

وہ ایک بے نام سی اداسی
جو ایک مدت سے شام ڈھلتے ہی
پھاٹکوں اور کھڑکیوں سے
ہوا کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے
ہمارے کمرے میں آ رہی تھی
کہاں گئی وہ