ماں

جب بھی کبھی جنت کو تصور میں بسایا
اے ماں مری خود کو ترے قدموں میں ہی پایا
دنیا کے کسی پیڑ کی چھانو میں نہیں ہے
جو مجھ کو عطا کرتا ہے ٹھنڈک ترا سایہ
اس رب کا ادا شکر بھلا کیوں نہ کروں میں
جس نے تری صورت میں ہی جنت کو دکھایا
دھرتی پہ میں اب اس لیے پیروں پہ کھڑا ہوں
میں چلتے ہوئے جب بھی گرا تو نے اٹھایا
یوں ہی تو نہیں گزرا یہ جھونکا مجھے چھوکر
خالدؔ مجھے لگتا ہے مری ماں نے بلایا