Khalid Mubashshir

خالد مبشر

خالد مبشر کی غزل

    عناصر کی گھنی زنجیر ہے

    عناصر کی گھنی زنجیر ہے سو یہ ہستی کی اک تعبیر ہے ملا ورثے میں درد دل مجھے یہ میرے باپ کی جاگیر ہے پگھل جائے گا پربت سنگ کیا مری آہوں میں وہ تاثیر ہے کہیں رانجھا، کہیں مجنوں ہوا وجود عشق عالم گیر ہے وہی پرویز کی شرطیں ہنوز وہی تیشہ ہے، جوئے شیر ہے سرور و غم ہے کیا خالدؔ ...

    مزید پڑھیے

    تمہاری یاد کا مرہم بنام دل کر دوں

    تمہاری یاد کا مرہم بنام دل کر دوں تمام ہجر کے زخموں کو مندمل کر دوں بہت ضروری ہے صحرا میں عشق زندہ رہے سو اس کو کیوں نہ عطا اپنے آب و گل کر دوں ابھی تو درد مرے دل میں عارضی ہے مگر سفارش آپ جو فرمائیں مستقل کر دوں جو داغ عشق چمک اٹھے میرے سینے میں تمام ماہ دوہفتہ کو میں خجل کر ...

    مزید پڑھیے

    زخموں کا ایک سلسلہ اچھا نہیں لگا

    زخموں کا ایک سلسلہ اچھا نہیں لگا جراح کو یہ تجربہ اچھا نہیں لگا اس نے کیا سلام تو اچھا لگا مگر بس یہ کہ منہ کا زاویہ اچھا نہیں لگا میرے جنوں کو وصل کی قربت نگل گئی فرقت سے اتنا فاصلہ اچھا نہیں لگا تم نے جو متن پیش کیا مستند تو تھا لیکن تمہارا حاشیہ اچھا نہیں لگا آئینہ گر کے ...

    مزید پڑھیے

    چشم کو سونپی گئی خدمت خواب

    چشم کو سونپی گئی خدمت خواب دل پہ طاری ہے عجب حالت خواب خواب اب کے نہ حقیقت ہو جائے اب کے ایسی ہے مری شدت خواب میں نے پڑھ لی ہیں تری بھی آنکھیں صرف مجھ پر نہ لگا تہمت خواب تجھ کو مژدہ ہو مری آنکھ کہ اب مجھ میں باقی نہ رہی ہمت خواب خواب مخفی ہی رہے سب سے یہاں کون کرتا ہے بھلا عزت ...

    مزید پڑھیے

    مرا وجود اسی کی وصال گاہ میں تھا

    مرا وجود اسی کی وصال گاہ میں تھا اسی کا ورد مرے دل کی خانقاہ میں تھا تمہارے قول و قسم پر فریب کیا کھاتا تمہارا طرز عمل بھی مری نگاہ میں تھا حروف مکر ترے لب پہ تھے مگر ظالم مجھے فریب بھی کھانا وفا کی راہ میں تھا تمام سنگ دلی یا کہ پھر غرور و حشم کچھ اور اس کے سوا بھی جہاں پناہ میں ...

    مزید پڑھیے

    فسون ساز طلسم شام تمہارے نام

    فسون ساز طلسم شام تمہارے نام وفور شوق خمار جام تمہارے نام زمین دل جو ہوئی تمام تمہارے نام یہ حرف لفظ نوا کلام تمہارے نام ہیں جتنے رنگ تمام رنگ تمہارے ہیں رہے سدا یہ دھنک نظام تمہارے نام بہت سے نام ہیں حسن کے مگر اصل میں ازل سے حسن کے سارے نام تمہارے نام بلاؤں کی تو بس ابتدا ...

    مزید پڑھیے

    جو عہد نو میں خمیر بشر بنایا جائے

    جو عہد نو میں خمیر بشر بنایا جائے سناں کو ہاتھ تو نیزے کو سر بنایا جائے شب حیات کو ایسے سحر بنایا جائے اک آفتاب سر چشم تر بنایا جائے مرے حواس کو یہ کون حکم دیتا ہے کہ اس کو مرکز قلب و نظر بنایا جائے میں اپنے پیکر خاکی سے مطمئن ہی نہیں مرے خدا مجھے بار دگر بنایا جائے درون ذات ...

    مزید پڑھیے

    اس نے جب خسرو پرویز کی دھمکی دی ہے

    اس نے جب خسرو پرویز کی دھمکی دی ہے میں نے بھی عشق بلا خیز کی دھمکی دی ہے میں جو رکھتا ہوں اسے دیکھ کے بھی ہوش بحال اس کی آنکھوں نے مئے تیز کی دھمکی دی ہے وہ جو دل دینے سے انکار کیا کرتا ہے میں نے اک لمس دل آویز کی دھمکی دی ہے پڑ گئی لذت آزار کی عادت جو مجھے تند خو نے کف گل ریز کی ...

    مزید پڑھیے

    سب لوگ شام ہوتے ہی جب اپنے گھر گئے

    سب لوگ شام ہوتے ہی جب اپنے گھر گئے صحرا کو ہم بھی شہر سے پھر لوٹ کر گئے اچھے دنوں کی آس میں جانے کدھر گئے جتنے تھے میرے خواب سہانے بکھر گئے موسیٰ جو بن چلے تھے عوامی خطاب میں ساحر کی رسیوں سے وہی لوگ ڈر گئے گہرائی ناپنے میں تھے کچھ لوگ منہمک کچھ لوگ پانیوں میں بلا خوف اتر ...

    مزید پڑھیے

    دل تھا ،دولہا دنیا دلہن

    دل تھا ،دولہا دنیا دلہن پہلی ہی رتیا ہو گئی ان بن میں مرلی دھر ،میں من موہن تو ہے رادھا، تو ہے پدمن میں ہوں سادھو، تو ہے آسن میں ہوں سپیرا، تو ہے ناگن من ہے جھیلم تن سندرون تو کشمیرن، تو بنگالن میرا تیرا کیسا بندھن میں ٹوٹا دل، تو ہے دھڑکن تجھ سے چپکوں تجھ سے لپٹوں میں ہوں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2