عناصر کی گھنی زنجیر ہے
عناصر کی گھنی زنجیر ہے سو یہ ہستی کی اک تعبیر ہے ملا ورثے میں درد دل مجھے یہ میرے باپ کی جاگیر ہے پگھل جائے گا پربت سنگ کیا مری آہوں میں وہ تاثیر ہے کہیں رانجھا، کہیں مجنوں ہوا وجود عشق عالم گیر ہے وہی پرویز کی شرطیں ہنوز وہی تیشہ ہے، جوئے شیر ہے سرور و غم ہے کیا خالدؔ ...