اس نے جب خسرو پرویز کی دھمکی دی ہے

اس نے جب خسرو پرویز کی دھمکی دی ہے
میں نے بھی عشق بلا خیز کی دھمکی دی ہے


میں جو رکھتا ہوں اسے دیکھ کے بھی ہوش بحال
اس کی آنکھوں نے مئے تیز کی دھمکی دی ہے


وہ جو دل دینے سے انکار کیا کرتا ہے
میں نے اک لمس دل آویز کی دھمکی دی ہے


پڑ گئی لذت آزار کی عادت جو مجھے
تند خو نے کف گل ریز کی دھمکی دی ہے


میں نے جب جب بھی کیا اس سے مظالم کا گلہ
اس نے کچھ اور بھی مہمیز کی دھمکی دی ہے