Khalid Mubashshir

خالد مبشر

خالد مبشر کے تمام مواد

15 غزل (Ghazal)

    عناصر کی گھنی زنجیر ہے

    عناصر کی گھنی زنجیر ہے سو یہ ہستی کی اک تعبیر ہے ملا ورثے میں درد دل مجھے یہ میرے باپ کی جاگیر ہے پگھل جائے گا پربت سنگ کیا مری آہوں میں وہ تاثیر ہے کہیں رانجھا، کہیں مجنوں ہوا وجود عشق عالم گیر ہے وہی پرویز کی شرطیں ہنوز وہی تیشہ ہے، جوئے شیر ہے سرور و غم ہے کیا خالدؔ ...

    مزید پڑھیے

    تمہاری یاد کا مرہم بنام دل کر دوں

    تمہاری یاد کا مرہم بنام دل کر دوں تمام ہجر کے زخموں کو مندمل کر دوں بہت ضروری ہے صحرا میں عشق زندہ رہے سو اس کو کیوں نہ عطا اپنے آب و گل کر دوں ابھی تو درد مرے دل میں عارضی ہے مگر سفارش آپ جو فرمائیں مستقل کر دوں جو داغ عشق چمک اٹھے میرے سینے میں تمام ماہ دوہفتہ کو میں خجل کر ...

    مزید پڑھیے

    زخموں کا ایک سلسلہ اچھا نہیں لگا

    زخموں کا ایک سلسلہ اچھا نہیں لگا جراح کو یہ تجربہ اچھا نہیں لگا اس نے کیا سلام تو اچھا لگا مگر بس یہ کہ منہ کا زاویہ اچھا نہیں لگا میرے جنوں کو وصل کی قربت نگل گئی فرقت سے اتنا فاصلہ اچھا نہیں لگا تم نے جو متن پیش کیا مستند تو تھا لیکن تمہارا حاشیہ اچھا نہیں لگا آئینہ گر کے ...

    مزید پڑھیے

    چشم کو سونپی گئی خدمت خواب

    چشم کو سونپی گئی خدمت خواب دل پہ طاری ہے عجب حالت خواب خواب اب کے نہ حقیقت ہو جائے اب کے ایسی ہے مری شدت خواب میں نے پڑھ لی ہیں تری بھی آنکھیں صرف مجھ پر نہ لگا تہمت خواب تجھ کو مژدہ ہو مری آنکھ کہ اب مجھ میں باقی نہ رہی ہمت خواب خواب مخفی ہی رہے سب سے یہاں کون کرتا ہے بھلا عزت ...

    مزید پڑھیے

    مرا وجود اسی کی وصال گاہ میں تھا

    مرا وجود اسی کی وصال گاہ میں تھا اسی کا ورد مرے دل کی خانقاہ میں تھا تمہارے قول و قسم پر فریب کیا کھاتا تمہارا طرز عمل بھی مری نگاہ میں تھا حروف مکر ترے لب پہ تھے مگر ظالم مجھے فریب بھی کھانا وفا کی راہ میں تھا تمام سنگ دلی یا کہ پھر غرور و حشم کچھ اور اس کے سوا بھی جہاں پناہ میں ...

    مزید پڑھیے

تمام

9 نظم (Nazm)

    عشق اسلحوں کی زد پر

    میں سراپا عشق میری جاں کے درپئے ہے سبھی کچھ میرے اندر اور باہر اسلحوں کی گرم بازاری ہے ہر سو یہ ہلال نو کسی کے ہجر کا خنجر ہے شاید یہ گھڑی دیوار کی ہر لمحہ مجھ کو کاٹتی ہے یاد کی برچھی مرے سینے پہ حملہ زن ہے ہر دم انتظار ایسا سلگتا ہے مرے اطراف جاں میں آتشیں بارود کا جلتا ہوا ہو ...

    مزید پڑھیے

    میں بالکل ٹھیک ہوں سوہنی

    تمہارا ایک میسج واٹس ایپ پر مدتوں کے بعد آیا تھا یہ لکھا تھا کہ بزی تھا میں سو رپلائی نہ کر پایا ذرا اس وقت کچھ سانسوں کی طغیانی سی برپا تھی مجھے کچھ دھڑکنوں کو بھی ذرا ترتیب دینا تھا موبائل اسکرین اس وقت دھندلی ہو گئی تھی کچھ بزی تھا میں سو رپلائی نہ کر پایا سو سوری اے مری ...

    مزید پڑھیے

    میں کہ اک بنی آدم

    میں کہ اک بنی آدم عالم عناصر کا اک خمیر تازہ دم اک حیات مجھ میں ہے کائنات مجھ میں ہے میری سلطنت ہے سب مجھ سے ہے جہاں قائم میں ہوں گردش پیہم رو میں ہے لہو ہر دم کیا خبر لہو کیا ہے ایک شورش ہستی ایک داخلی طوفاں ایک محشر دوراں کیا خبر لہو کیا ہے گردشیں ستاروں کی گردش آسمانوں کی گردشیں ...

    مزید پڑھیے

    آخری نیند

    یہ رات بھر کون میری آنکھوں میں جاگتا ہے یہ کس کی آہٹ کی جستجو میں تمام رستے ملول و بے خواب ہو گئے ہیں ابد کے دربان نے امیدوں کے در پہ تالا لگا دیا ہے یہ میری راتیں یہ میری آنکھیں یہ میرے آنسو کئی کئی ماہ کے مسلسل جگے ہوئے ہیں میں تھک چکا ہوں سو اے مرے گھر کے سارے دروازو اور ...

    مزید پڑھیے

    آئینہ اور میں

    زمانے بھر میں آئینہ صداقت کی علامت ہے مگر میں اس کا منکر ہوں بہت جھوٹا ہے آئینہ کبھی وہ دیو قامت ہستیوں کو ایک دم بونا دکھاتا ہے طلسماتی ہے آئینہ کبھی پستہ قدوں کا قد بہت اونچا دکھاتا ہے بہت بہروپیا ہے وہ کوئی فربہ ہو تو اس کو بہت دبلا دکھاتا ہے بہت ہی مسخرہ ہے وہ چلو جانے بھی دو ...

    مزید پڑھیے

تمام