Khalid Mubashshir

خالد مبشر

خالد مبشر کی غزل

    ان دنوں شام ایسے آتی ہے

    ان دنوں شام ایسے آتی ہے موج خوں میں نہا کے جاتی ہے ایک صحرا مجھے بلاتا ہے ایک وحشت گلے لگاتی ہے پہلے ہم دھوپ میں جھلستے تھے اب تو یہ چھاؤں بھی جلاتی ہے کتنی معصوم ہے وفا اپنی بے وفائی ہنسی اڑاتی ہے غیر کی بات اس سے کیوں پوچھی اس کی سچائی اب رلاتی ہے کتنے عشوے ہیں اک محبت ...

    مزید پڑھیے

    غریق ذکر خدا دن کو خانقاہ میں تھا

    غریق ذکر خدا دن کو خانقاہ میں تھا جو شیخ رات کو ڈوبا ہوا گناہ میں تھا تمام سنگ دلی یا کہ پھر غرور و حشم کچھ اور اس کے سوا بھی جہاں پناہ میں تھا حروف مکر ترے لب پہ تھے مگر ظالم مجھے فریب بھی کھانا وفا کی راہ میں تھا تمہارے قول و قسم پر فریب کیا کھاتا تمہارا طرز ادا بھی مری نگاہ ...

    مزید پڑھیے

    بہت زندگی کا بھلا چاہتا ہوں

    بہت زندگی کا بھلا چاہتا ہوں بہ الفاظ دیگر قضا چاہتا ہوں مری وحشتوں کا سبب کون سمجھے کہ میں گم شدہ قافلہ چاہتا ہوں بتوں سے ہوں بیزار اتنا کہ بس اب خدا ہی خدا بس خدا چاہتا ہوں یہ دنیا یہ عقبیٰ تو سب چاہتے ہیں مگر میں کچھ اس کے سوا چاہتا ہوں جداگانہ ہیں اب یزیدی مظالم سو میں ...

    مزید پڑھیے

    لوگ کہتے ہیں بہت زندہ و پائندہ ہوں

    لوگ کہتے ہیں بہت زندہ و پائندہ ہوں کس کو معلوم ہے یہ سچ کہ ترا کشتہ ہوں زندگی نام تنفس کا نہیں ہے جاناں شکوہ بیجا ہے کہ بن تیرے بھی میں زندہ ہوں مار ہی دیتی مجھے تیری یہ فرقت لیکن کب تری یاد نے چھوڑا ہے کہ میں تنہا ہوں ہے بجا تیری جدائی میں تو مر جانا تھا میں مگر ہجر میں بھی وصل ...

    مزید پڑھیے

    اپنا وجود میں نے اب اس طرح پاک کر لیا

    اپنا وجود میں نے اب اس طرح پاک کر لیا جل کر تمام عشق میں خود کو ہی خاک کر لیا اس کے لیے تو کھیل تھا شوخی تھی یا مذاق تھا میں نے ہی سب معاملہ اندوہ ناک کر لیا اب کے جنوں میں سانحہ ایسا بھی ہو گیا کہ بس دامن تو خیر چھوڑیئے سینہ ہی چاک کر لیا اس سے نہ رابطہ رہے اس کی خوشی اسی میں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2