عشق اسلحوں کی زد پر
میں سراپا عشق میری جاں کے درپئے ہے سبھی کچھ میرے اندر اور باہر اسلحوں کی گرم بازاری ہے ہر سو یہ ہلال نو کسی کے ہجر کا خنجر ہے شاید یہ گھڑی دیوار کی ہر لمحہ مجھ کو کاٹتی ہے یاد کی برچھی مرے سینے پہ حملہ زن ہے ہر دم انتظار ایسا سلگتا ہے مرے اطراف جاں میں آتشیں بارود کا جلتا ہوا ہو ...