Khalid Mubashshir

خالد مبشر

خالد مبشر کی نظم

    عشق اسلحوں کی زد پر

    میں سراپا عشق میری جاں کے درپئے ہے سبھی کچھ میرے اندر اور باہر اسلحوں کی گرم بازاری ہے ہر سو یہ ہلال نو کسی کے ہجر کا خنجر ہے شاید یہ گھڑی دیوار کی ہر لمحہ مجھ کو کاٹتی ہے یاد کی برچھی مرے سینے پہ حملہ زن ہے ہر دم انتظار ایسا سلگتا ہے مرے اطراف جاں میں آتشیں بارود کا جلتا ہوا ہو ...

    مزید پڑھیے

    میں بالکل ٹھیک ہوں سوہنی

    تمہارا ایک میسج واٹس ایپ پر مدتوں کے بعد آیا تھا یہ لکھا تھا کہ بزی تھا میں سو رپلائی نہ کر پایا ذرا اس وقت کچھ سانسوں کی طغیانی سی برپا تھی مجھے کچھ دھڑکنوں کو بھی ذرا ترتیب دینا تھا موبائل اسکرین اس وقت دھندلی ہو گئی تھی کچھ بزی تھا میں سو رپلائی نہ کر پایا سو سوری اے مری ...

    مزید پڑھیے

    میں کہ اک بنی آدم

    میں کہ اک بنی آدم عالم عناصر کا اک خمیر تازہ دم اک حیات مجھ میں ہے کائنات مجھ میں ہے میری سلطنت ہے سب مجھ سے ہے جہاں قائم میں ہوں گردش پیہم رو میں ہے لہو ہر دم کیا خبر لہو کیا ہے ایک شورش ہستی ایک داخلی طوفاں ایک محشر دوراں کیا خبر لہو کیا ہے گردشیں ستاروں کی گردش آسمانوں کی گردشیں ...

    مزید پڑھیے

    آخری نیند

    یہ رات بھر کون میری آنکھوں میں جاگتا ہے یہ کس کی آہٹ کی جستجو میں تمام رستے ملول و بے خواب ہو گئے ہیں ابد کے دربان نے امیدوں کے در پہ تالا لگا دیا ہے یہ میری راتیں یہ میری آنکھیں یہ میرے آنسو کئی کئی ماہ کے مسلسل جگے ہوئے ہیں میں تھک چکا ہوں سو اے مرے گھر کے سارے دروازو اور ...

    مزید پڑھیے

    آئینہ اور میں

    زمانے بھر میں آئینہ صداقت کی علامت ہے مگر میں اس کا منکر ہوں بہت جھوٹا ہے آئینہ کبھی وہ دیو قامت ہستیوں کو ایک دم بونا دکھاتا ہے طلسماتی ہے آئینہ کبھی پستہ قدوں کا قد بہت اونچا دکھاتا ہے بہت بہروپیا ہے وہ کوئی فربہ ہو تو اس کو بہت دبلا دکھاتا ہے بہت ہی مسخرہ ہے وہ چلو جانے بھی دو ...

    مزید پڑھیے

    انا اور محبت

    یہ میں کہ مجھ سے چھن گیا ہے سربسر وہ کون ہے کہ جس کی دسترس میں آ کے میں مرا نہیں رہا مجھے تو میں تمام کائنات سے عزیز تھا مری انا کی سلطنت وسیع تھی عریض تھی اور اس کا نارسیسس تھا میں وہ سلطنت جہاں پہ صرف میں تھا میرا عکس تھا اور اس کے ماسوا نفی کا رقص تھا میں اپنی ذات پر فریفتہ ...

    مزید پڑھیے

    ایک پاگل کی عید

    سنا ہے عید آئی تھی سنا ہے میری مٹی کو وطن لایا گیا اس دن سنا ہے میرے اعضا نے اداکاری بہت اچھی طرح کی تھی نظر نے چاند بھی دیکھا زباں نے ساری دنیا کو مبارک بادیاں بھی دیں بدن نے صبح دم اٹھ کر نہایا بھی نئے کپڑے بھی پہنے عطر مل کر عید گہہ جا کر دوگانہ بھی ادا کر لی گلے نے بھی گلے ملنے ...

    مزید پڑھیے

    نفسیاتی مرض

    میر تو نہیں ہوں میں جانے پھر بھی ایسا کیوں روز روز ہوتا ہے رات کے سمندر میں چاند جو کہ مچھلی ہے موتیاں اگلتا ہے اور ایک موتی سے جل پری نکلتی ہے اور مجھ سے کہتی ہے کیوں اداس رہتے ہوں ''نیند کیوں نہیں آتی'' کون یاد آتا ہے کس کا غم ستاتا ہے الفتوں کے مارے ہو چاہتوں کے پیاسے ہو رات اک ...

    مزید پڑھیے

    میں اردو زباں ہوں

    میں اردو زباں ہوں مجھے آریاؤں نے پالا مری اصل ہندوستاں ہے کہ میرے لہو سے ہی ویدوں کی آیات لکھی گئی ہیں یہ رام اور سیتا کی عظمت کے قصے رمائن کتھائیں کرشن اور رادھا کے رنگیں فسانے ہر اک لفظ کی روح نغمہ سرا ہے میں اردو زباں ہوں وہ گوتم کہ جس نے محبت کی پیغمبری سے جہنم کو جنت بنایا مگر ...

    مزید پڑھیے