چشم کو سونپی گئی خدمت خواب
چشم کو سونپی گئی خدمت خواب
دل پہ طاری ہے عجب حالت خواب
خواب اب کے نہ حقیقت ہو جائے
اب کے ایسی ہے مری شدت خواب
میں نے پڑھ لی ہیں تری بھی آنکھیں
صرف مجھ پر نہ لگا تہمت خواب
تجھ کو مژدہ ہو مری آنکھ کہ اب
مجھ میں باقی نہ رہی ہمت خواب
خواب مخفی ہی رہے سب سے یہاں
کون کرتا ہے بھلا عزت خواب
میری آنکھوں میں گہر ہیں کتنے
مجھ کو حاصل ہے بہت دولت خواب
تم کہ جلوت سے گریزاں ہو بہت
اب تو آ جاؤ کہ ہے خلوت خواب
اس کے پہرے ہیں مری آنکھوں پر
اس کو معلوم ہے کیا قوت خواب
کتنا بے خواب کیا ہے تو نے
چھوڑ پیچھا مرا اے آفت خواب
بس کلیجہ ہی چبا جاتی ہے
کتنی خونخوار ہے یہ وحشت خواب
کائنات اور حیات اے خالدؔ
خواب میں جیسے کوئی ساعت خواب