Khaleel Raazi

خلیل راضی

خلیل راضی کی غزل

    محبت کرنے والے غم کا افسانہ نہیں کہتے

    محبت کرنے والے غم کا افسانہ نہیں کہتے کہ دیوانے کبھی اپنے کو دیوانہ نہیں کہتے بھرم میں ڈال رکھا ہے مجھے اس کج ادائی نے کبھی بھی روبرو مجھ کو وہ بیگانہ نہیں کہتے یہاں تک تم نے تنہا کر دیا ہم کو زمانے سے کہ اپنے گھر کو بھی ہم اپنا کاشانہ نہیں کہتے خس و خاشاک بھر لیتے ہیں ہم ارماں ...

    مزید پڑھیے

    مجھ کو آتا نہیں اوروں کو جو پیار آتا ہے

    مجھ کو آتا نہیں اوروں کو جو پیار آتا ہے خود نمائی سے مرے دل میں غبار آتا ہے دل ہے میرا جو یہاں شیفتہ وار آتا ہے عمر اپنی ترے کوچے میں گزار آتا ہے ساتھ مٹی کے ہوئے آگ ہوا اور پانی آدمی چار کے کاندھے پہ سوار آتا ہے کس کے جانے سے خزاں لوٹ گیا گلشن شوق کون آیا کہ مجھے لطف بہار آتا ...

    مزید پڑھیے

    دل سے نکلے تو زباں تک پہنچے

    دل سے نکلے تو زباں تک پہنچے غم کے احوال یہاں تک پہنچے ہاتھ اٹھتے ہیں فلک کی جانب اب دعا دیکھو کہاں تک پہنچے ہم جو آتے تو وہیں تک آتے تم جو پہنچے تو یہاں تک پہنچے جوش پرواز میں اڑتا پڑتا شوق پرواز جہاں تک پہنچے ہوش کھوئے تو تری رہ پائی پاؤں سنبھلے تو مکاں تک پہنچے ان کے اقرار ...

    مزید پڑھیے

    کسی کے دست عنایت کا وہ دیا ہوں میں

    کسی کے دست عنایت کا وہ دیا ہوں میں جلا دیا ہے کسی نے سلگ رہا ہوں میں دیار لطف میں ایسا شکستہ پا ہوں میں لپٹ کے کانٹوں سے روئے وہ آبلہ ہوں میں مجھے مری ہی رعایت نے کر دیا محروم پکڑ پکڑ کے جو دامن کو چھوڑتا ہوں میں مجھی میں کون خطا ہے کہ جو کسی میں نہیں اک آدمی ہوں یہی بس نہ اور کیا ...

    مزید پڑھیے

    جب نہ کوئی بھی آسرا ہوگا

    جب نہ کوئی بھی آسرا ہوگا جان بھی دیں گے ہم تو کیا ہوگا کل بھی جو یاد آئے گی کل کی پھر کوئی حشر دوسرا ہوگا صبح عارض کا دل نشیں منظر پھول شاید کوئی کھلا ہوگا کوئی رستہ نظر نہیں آتا سامنے کوئی آ گیا ہوگا آ گئے ہو تو ہو گیا کیا کیا جاؤ گے تم تو جانے کیا ہوگا کل کا وعدہ تو اک قیامت ...

    مزید پڑھیے

    بھٹک رہا ہوں کہ گر کر سنبھل رہا ہوں میں

    بھٹک رہا ہوں کہ گر کر سنبھل رہا ہوں میں کسی طرح سے تو رستے پہ چل رہا ہوں میں نوازشات کی حد سے نکل رہا ہوں میں ہٹا لے ہاتھ کہ کروٹ بدل رہا ہوں میں جنوں میں عقل کی سوداگری بھی کی میں نے نگاہ ناز سے دنیا بدل رہا ہوں میں ہوائے غم سے گھرا ہے چراغ ہستی کا سنبھالنا کہ ترے پاس جل رہا ہوں ...

    مزید پڑھیے

    اکثر دیار عشق سے ہو کر گزر گئے

    اکثر دیار عشق سے ہو کر گزر گئے ہنس کر گزر گئے کبھی رو کر گزر گئے کھٹکی نگاہ شوق میں گلشن کی خارگی ہم چاک دل کو غم سے پرو کر گزر گئے پتوار ٹوٹنے کا ہوا رنج اس قدر ہم ناؤ تند رو میں ڈبو کر گزر گئے بخشی ہے عہد لطف نے راتوں کی تیرگی دن حسن اعتبار میں سو کر گزر گئے منزل سے کیا پتہ کہ ...

    مزید پڑھیے

    کچھ اور ہے مجھ کو غم دوراں تو نہیں ہے

    کچھ اور ہے مجھ کو غم دوراں تو نہیں ہے مضطر ہے دل شوق پریشاں تو نہیں ہے لٹنے کی تمنا ہے مرے گوہر دل میں مفلس تو نہیں بے سر و ساماں تو نہیں ہے کل ہوگی قیامت وہ یقیں بھی نہیں کرتا ظالم کوئی کافر ہے مسلماں تو نہیں ہے کیا ہے جو کھٹکتا ہے برابر مرے دل میں مجھ پر نگہ ناز کا احساں تو نہیں ...

    مزید پڑھیے

    آشنا کہنے سے کوئی آشنا ہوتا نہیں

    آشنا کہنے سے کوئی آشنا ہوتا نہیں پوجئے جتنا مگر پتھر خدا ہوتا نہیں فتنہ اندازی سے مت پھینکو تبسم کو ادھر برق سے روشن کسی گھر کا دیا ہوتا نہیں کانچ بنتا ہے چھٹا سے اپنی ہیرے کا جواب آدمی جرأت نہ ہو تو کام کا ہوتا نہیں وضع داری سے نہ ہوگا آدمی اک جانور جامۂ اطہر سے کوئی پارسا ...

    مزید پڑھیے

    اب تک تو سارے غم سے مرے بے خبر ملے

    اب تک تو سارے غم سے مرے بے خبر ملے بتلاؤں حال دل جو کوئی چارہ گر ملے لمحے حصول‌ شوق کے بس اس قدر ملے بھٹکے ہوئے کو راہ میں جیسے خضر ملے ان کے بغیر کر نہ سکے زندگی بخیر رنج و الم کے ساتھ تو ہم عمر بھر ملے دل تھا کہیں لگا کہیں آنکھیں بچھی ہوئیں یہ سارے اہتمام تری راہ پر ملے کرنا ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2