محبت کرنے والے غم کا افسانہ نہیں کہتے

محبت کرنے والے غم کا افسانہ نہیں کہتے
کہ دیوانے کبھی اپنے کو دیوانہ نہیں کہتے


بھرم میں ڈال رکھا ہے مجھے اس کج ادائی نے
کبھی بھی روبرو مجھ کو وہ بیگانہ نہیں کہتے


یہاں تک تم نے تنہا کر دیا ہم کو زمانے سے
کہ اپنے گھر کو بھی ہم اپنا کاشانہ نہیں کہتے


خس و خاشاک بھر لیتے ہیں ہم ارماں کے دامن میں
کبھی اس دل کے معمورے کو ویرانہ نہیں کہتے


بھلا سا طنز ہے ان کا ہماری جبہ سائی پر
اسے سر پھوڑنا کہتے ہیں نذرانہ نہیں کہتے


غم دل میری آنکھوں سے ٹپک جاتے ہیں دھیرے سے
چھلک جانے کی کوئی بات پیمانہ نہیں کہتے


تمہارے نام پر موسوم کر دیتے ہیں سب راضیؔ
کبھی ہم لغزش ساغر کو مستانہ نہیں کہتے