ناخدا بھی نہیں خدا بھی نہیں
ناخدا بھی نہیں خدا بھی نہیں کوئی میرا ترے سوا بھی نہیں مدعا غیر مدعا بھی نہیں اور حسرت کا پوچھنا بھی نہیں کاہش غم حریف جاں ہی سہی غم نہ ہو تو یہاں مزا بھی نہیں شیشۂ دل تو چور ہے لیکن آسرا ہے کہ ٹوٹتا بھی نہیں حسن کا عکس ہے حجاب نظر پھر جنوں کو تو سوجھتا بھی نہیں بزم سے ان کی ...