Khaleel Raazi

خلیل راضی

خلیل راضی کی غزل

    ناخدا بھی نہیں خدا بھی نہیں

    ناخدا بھی نہیں خدا بھی نہیں کوئی میرا ترے سوا بھی نہیں مدعا غیر مدعا بھی نہیں اور حسرت کا پوچھنا بھی نہیں کاہش غم حریف جاں ہی سہی غم نہ ہو تو یہاں مزا بھی نہیں شیشۂ دل تو چور ہے لیکن آسرا ہے کہ ٹوٹتا بھی نہیں حسن کا عکس ہے حجاب نظر پھر جنوں کو تو سوجھتا بھی نہیں بزم سے ان کی ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2