آشنا کہنے سے کوئی آشنا ہوتا نہیں
آشنا کہنے سے کوئی آشنا ہوتا نہیں
پوجئے جتنا مگر پتھر خدا ہوتا نہیں
فتنہ اندازی سے مت پھینکو تبسم کو ادھر
برق سے روشن کسی گھر کا دیا ہوتا نہیں
کانچ بنتا ہے چھٹا سے اپنی ہیرے کا جواب
آدمی جرأت نہ ہو تو کام کا ہوتا نہیں
وضع داری سے نہ ہوگا آدمی اک جانور
جامۂ اطہر سے کوئی پارسا ہوتا نہیں
کچھ تو ہے مطلب کہ میرا نام لب پر آ گیا
کام دنیا کو کوئی بے مدعا ہوتا نہیں
ہو نہ ہو راضیؔ جدا معنیٰ ہیں ان کی بات کے
بد دعا سے ان کی اپنا کچھ برا ہوتا نہیں