جب نہ کوئی بھی آسرا ہوگا
جب نہ کوئی بھی آسرا ہوگا
جان بھی دیں گے ہم تو کیا ہوگا
کل بھی جو یاد آئے گی کل کی
پھر کوئی حشر دوسرا ہوگا
صبح عارض کا دل نشیں منظر
پھول شاید کوئی کھلا ہوگا
کوئی رستہ نظر نہیں آتا
سامنے کوئی آ گیا ہوگا
آ گئے ہو تو ہو گیا کیا کیا
جاؤ گے تم تو جانے کیا ہوگا
کل کا وعدہ تو اک قیامت ہے
گر قیامت نہ ہو تو کیا ہوگا
کون راضیؔ سے ہوگا ناواقف
ہر بشر ان کو جانتا ہوگا