دل سے نکلے تو زباں تک پہنچے
دل سے نکلے تو زباں تک پہنچے
غم کے احوال یہاں تک پہنچے
ہاتھ اٹھتے ہیں فلک کی جانب
اب دعا دیکھو کہاں تک پہنچے
ہم جو آتے تو وہیں تک آتے
تم جو پہنچے تو یہاں تک پہنچے
جوش پرواز میں اڑتا پڑتا
شوق پرواز جہاں تک پہنچے
ہوش کھوئے تو تری رہ پائی
پاؤں سنبھلے تو مکاں تک پہنچے
ان کے اقرار کا کیا ہے راضیؔ
وہ جو انکار میں ہاں تک پہنچے