اکثر دیار عشق سے ہو کر گزر گئے

اکثر دیار عشق سے ہو کر گزر گئے
ہنس کر گزر گئے کبھی رو کر گزر گئے


کھٹکی نگاہ شوق میں گلشن کی خارگی
ہم چاک دل کو غم سے پرو کر گزر گئے


پتوار ٹوٹنے کا ہوا رنج اس قدر
ہم ناؤ تند رو میں ڈبو کر گزر گئے


بخشی ہے عہد لطف نے راتوں کی تیرگی
دن حسن اعتبار میں سو کر گزر گئے


منزل سے کیا پتہ کہ نکل آئے دور ہم
ہوش و حواس راہ میں کھو کر گزر گئے


گزری جو ان پہ شاق تہی دامنی مری
آنچل کو آنسوؤں میں بھگو کر گزر گئے


راضیؔ کو غم ہے میرے لئے کچھ نہ کر سکے
یہ بھی تو کم نہیں ہے کہ جو کر گزر گئے