آنسوؤں سے دل کے ان داغوں کو دھو لیتا ہوں میں

آنسوؤں سے دل کے ان داغوں کو دھو لیتا ہوں میں
درد جب حد سے گزر جاتا ہے رو لیتا ہوں میں


جب ستاتی ہے کسی کی یاد تنہائی کے وقت
آنسوؤں کے ہار پلکوں سے پرو لیتا ہوں میں


شدت احساس غم سے جب بھی گھبراتا ہے دل
آنسوؤں میں اپنی آہوں کو ڈبو لیتا ہوں میں


درد الفت درد دنیا اور یہ ننھا سا دل
ایک کوزے میں سمندر کو سمو لیتا ہوں میں


وحشتیں ویرانیاں جس دم ستاتی ہیں مجھے
یاد کے تکیے پہ سر رکھ کر کے سو لیتا ہوں میں


وحشت دل کا یہ عالم ہے کہ دشمن ہو یا دوست
جو بھی مل جاتا ہے اس کے ساتھ ہو لیتا ہوں میں


ہائے وہ لمحے اذیت کوش حیرتؔ کیا کہوں
جب خموشی میں زباں ہوتے ہیں رو لیتا ہوں میں