زیست کے بھید کھولتا ہے کون
زیست کے بھید کھولتا ہے کون
میرے اندر یہ بولتا ہے کون
میرے شعروں میں میرے لفظوں کو
موتیوں سا یہ رولتا ہے کون
میرے شعروں میں میری غزلوں میں
اپنے اسرار کھولتا ہے کون
تلخ لمحوں میں لب سے شیرینی
میرے کانوں میں گھولتا ہے کون
چھین لی کس نے میری تنہائی
میری راتوں میں ڈولتا ہے کون
کند ہو جاتا حافظہ میرا
اس کو ہر پل ٹٹولتا ہے کون
شعر میرے نہیں ہیں یہ حیرتؔ
خود سمجھ لو یہ بولتا ہے کون