یہ کہانی یہ فسانہ بس اسی شب بھر کا ہے

یہ کہانی یہ فسانہ بس اسی شب بھر کا ہے
زندگی شیشے کی ہے اور آدمی پتھر کا ہے


دوستو اس دور کی سب سے بڑی خوبی ہے یہ
آدمی پتھر کا دل پتھر گھر پتھر کا ہے


ہے وہ کتنا خوب صورت ہر ادا بھی دل نشیں
اس کی باتیں میٹھی میٹھی پر اثر نشتر کا ہے


ایک مدت ہو گئی آئی نہ منزل آج تک
یہ کرشمہ بھی مرے یارو مرے رہبر کا ہے


کب تلک رکھو گے امید کرم اس بت سے تم
ہے تو وہ مٹی کا لیکن اس کا دل پتھر کا ہے


نا امیدی بے یقینی بے بسی بے چارگی
ایک تیرا ہی نہیں یہ قصہ اب گھر گھر کا ہے


اب گزارہ غیر ممکن شہر میں حیرت جہاں
ذہن و دل پتھر کے تن پتھر کا گھر پتھر کا ہے