رہ جائے یا بلا سے یہ جان رہ نہ جائے
رہ جائے یا بلا سے یہ جان رہ نہ جائے تیرا تو اے ستمگر ارمان رہ نہ جائے جو دل کی حسرتیں ہیں سب دل میں ہوں تو بہتر اس گھر سے کوئی باہر مہمان رہ نہ جائے اقرار وصل تو ہے ایسا نہ ہو نہ آئیں مشکل ہماری ہو کر آسان رہ نہ جائے اے سوز غم جلا دے اے درد خوں رلا دے کچھ ان کی دل لگی کا سامان رہ نہ ...