Fani Badayuni

فانی بدایونی

ممتاز ترین قبل از جدید شاعروں میں نمایاں، اپنی شاعری کے اداس رنگ کے لیے معروف

One of the most prominent post-classical poets famous for his pessimistic view of life.

فانی بدایونی کی غزل

    رہ جائے یا بلا سے یہ جان رہ نہ جائے

    رہ جائے یا بلا سے یہ جان رہ نہ جائے تیرا تو اے ستمگر ارمان رہ نہ جائے جو دل کی حسرتیں ہیں سب دل میں ہوں تو بہتر اس گھر سے کوئی باہر مہمان رہ نہ جائے اقرار وصل تو ہے ایسا نہ ہو نہ آئیں مشکل ہماری ہو کر آسان رہ نہ جائے اے سوز غم جلا دے اے درد خوں رلا دے کچھ ان کی دل لگی کا سامان رہ نہ ...

    مزید پڑھیے

    کی وفا یار سے ایک ایک جفا کے بدلے

    کی وفا یار سے ایک ایک جفا کے بدلے ہم نے گن گن کے لیے خون وفا کے بدلے کی سپرد در بت خانہ اجل نے مری خاک کس کو سونپا مجھے ظالم نے خدا کے بدلے لطف بیداد حیا غصہ تغافل شوخی رنگ کیا کیا نہ تلون نے ادا کے بدلے ہائے میں کشتۂ انداز ہوں یا رب کس کا حور آئی مجھے لینے کو قضا کے بدلے تیر سے ...

    مزید پڑھیے

    بے خودی پہ تھا فانیؔ کچھ نہ اختیار اپنا

    بے خودی پہ تھا فانیؔ کچھ نہ اختیار اپنا عمر بھر کیا ناحق ہم نے انتظار اپنا تاب ضبط غم نے بھی دے دیا جواب آخر ان کے دل سے اٹھتا ہے آج اعتبار اپنا عشق زندگی ٹھہرا لیکن اب یہ مشکل ہے زندگی سے ہوتا ہے عہد استوار اپنا شکوہ برملا کرتے خیر یہ تو کیا کرتے ہاں مگر جو بن پڑتا شکوہ ایک بار ...

    مزید پڑھیے

    اے اجل اے جان فانیؔ تو نے یہ کیا کر دیا

    اے اجل اے جان فانیؔ تو نے یہ کیا کر دیا مار ڈالا مرنے والے کو کہ اچھا کر دیا جب ترا ذکر آ گیا ہم دفعتاً چپ ہو گئے وہ چھپایا راز دل ہم نے کہ افشا کر دیا کس قدر بے زار تھا دل مجھ سے ضبط شوق پر جب کہا دل کا کیا ظالم نے رسوا کر دیا یوں چرائیں اس نے آنکھیں سادگی تو دیکھیے بزم میں گویا ...

    مزید پڑھیے

    خوشی سے رنج کا بدلا یہاں نہیں ملتا

    خوشی سے رنج کا بدلا یہاں نہیں ملتا وہ مل گئے تو مجھے آسماں نہیں ملتا ہزار ڈھونڈیئے اس کا نشاں نہیں ملتا جبیں ملے تو ملے آستاں نہیں ملتا مجاز اور حقیقت کچھ اور ہے یعنی تری نگاہ سے تیرا بیاں نہیں ملتا بھڑک کے شعلۂ گل تو ہی اب لگا دے آگ کہ بجلیوں کو مرا آشیاں نہیں ملتا تری تلاش ...

    مزید پڑھیے

    آہ اب تک تو بے اثر نہ ہوئی

    آہ اب تک تو بے اثر نہ ہوئی کچھ تمہیں کو مری خبر نہ ہوئی شام سے فکر صبح کیا شب ہجر مر رہیں گے اگر سحر نہ ہوئی کس سے دل کا سراغ پائیں گے ہم تو ہی اے آرزو اگر نہ ہوئی خلق سمجھی مجھی کو دیوانہ چارہ فرمائے چارہ گر نہ ہوئی کچھ نظر کہہ گئی زباں نہ کھلی بات ان سے ہوئی مگر نہ ہوئی شکوہ ...

    مزید پڑھیے

    قسم نہ کھاؤ تغافل سے باز آنے کی

    قسم نہ کھاؤ تغافل سے باز آنے کی کہ دل میں اب نہیں طاقت ستائے جانے کی ہماری موت نے کچھ مختصر کیا ورنہ کچھ انتہا ہی نہ تھی عشق کے فسانے کی گری نہ برق کچھ اس خوف سے مرے ہوتے تڑپ کے آگ بجھا دوں نہ آشیانے کی تمہارا درد تو درماں بنا لیا ہم نے اب اور سوچیے تدبیر دل دکھانے کی زمانہ کفر ...

    مزید پڑھیے

    اپنی جنت مجھے دکھلا نہ سکا تو واعظ (ردیف .. ی)

    اپنی جنت مجھے دکھلا نہ سکا تو واعظ کوچۂ یار میں چل دیکھ لے جنت میری ساری دنیا سے انوکھی ہے زمانے سے جدا نعمت خاص ہے اللہ رے قسمت میری شکوۂ ہجر پہ سر کاٹ کے فرماتے ہیں پھر کروگے کبھی اس منہ سے شکایت میری تیری قدرت کا نظارہ ہے مرا عجز گناہ تیری رحمت کا اشارہ ہے ندامت میری لو ...

    مزید پڑھیے

    جب دل میں ترے غم نے حسرت کی بنا ڈالی

    جب دل میں ترے غم نے حسرت کی بنا ڈالی دنیا مری راحت کی قسمت نے مٹا ڈالی اب برق نشیمن کو ہر شاخ سے کیا مطلب جس شاخ کو تاکا تھا وہ شاخ جلا ڈالی اظہار محبت کی حسرت کو خدا سمجھے ہم نے یہ کہانی بھی سو بار سنا ڈالی جینے بھی نہیں دیتے مرنے بھی نہیں دیتے کیا تم نے محبت کی ہر رسم اٹھا ...

    مزید پڑھیے

    دل کی طرف حجاب تکلف اٹھا کے دیکھ

    دل کی طرف حجاب تکلف اٹھا کے دیکھ آئینہ دیکھ اور ذرا مسکرا کے دیکھ اس دور میں یہ طرز جفا آزما کے دیکھ دل کے بجائے دل کے سکوں کو مٹا کے دیکھ تسلیم کی نظر سے کرشمے رضا کے دیکھ بیگانگی دوست کو اپنا بنا کے دیکھ اس شورش حیات کو حد سے بڑھا کے دیکھ یہ فتنہ اور حشر سے پہلے اٹھا کے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 5