Fani Badayuni

فانی بدایونی

ممتاز ترین قبل از جدید شاعروں میں نمایاں، اپنی شاعری کے اداس رنگ کے لیے معروف

One of the most prominent post-classical poets famous for his pessimistic view of life.

فانی بدایونی کی غزل

    ابتدائے عشق ہے لطف شباب آنے کو ہے

    ابتدائے عشق ہے لطف شباب آنے کو ہے صبر رخصت ہو رہا ہے اضطراب آنے کو ہے قبر پر کس شان سے وہ بے نقاب آنے کو ہے آفتاب صبح محشر ہم رکاب آنے کو ہے مجھ تک اس محفل میں پھر جام شراب آنے کو ہے عمر رفتہ پلٹی آتی ہے شباب آنے کو ہے ہائے کیسی کشمکش ہے یاس بھی ہے آس بھی دم نکل جانے کو ہے خط کا ...

    مزید پڑھیے

    محتاج اجل کیوں ہے خود اپنی قضا ہو جا

    محتاج اجل کیوں ہے خود اپنی قضا ہو جا غیرت ہو تو مرنے سے پہلے ہی فنا ہو جا اے شوق طلب بڑھ کر مجنون ادا ہو جا اے ہمت مردانہ راضی بہ رضا ہو جا آغوش فنا میں ہم پروردۂ آفت ہیں اے فتنۂ دوراں اٹھ اے حشر بپا ہو جا ضد اور یہ ضد اے دل اچھا تو خدا حافظ قربان ہی اس بت پر ہوتا ہے تو جا ہو جا اس ...

    مزید پڑھیے

    زندگی جبر ہے اور جبر کے آثار نہیں

    زندگی جبر ہے اور جبر کے آثار نہیں ہائے اس قید کو زنجیر بھی درکار نہیں بے ادب گریۂ محرومئ دیدار نہیں ورنہ کچھ در کے سوا حاصل دیوار نہیں آسماں بھی ترے کوچہ کی زمیں ہے لیکن وہ زمیں جس پہ ترا سایۂ دیوار نہیں ہائے دنیا وہ تری سرمہ تقاضہ آنکھیں کیا مری خاک کا ذرہ کوئی بیکار نہیں

    مزید پڑھیے

    اک فسانہ سن گئے اک کہہ گئے

    اک فسانہ سن گئے اک کہہ گئے میں جو رویا مسکرا کر رہ گئے یا ترے محتاج ہیں اے خون دل یا انہیں آنکھوں سے دریا بہہ گئے موت ان کا منہ ہی تکتی رہ گئی جو تری فرقت کے صدمے سہ گئے تو سلامت ہے تو ہم اے درد دل مر ہی جائیں گے جو جیتے رہ گئے پھر کسی کی یاد نے تڑپا دیا پھر کلیجہ تھام کر ہم رہ ...

    مزید پڑھیے

    ڈرو نہ تم کہ نہ سن لے کہیں خدا میری

    ڈرو نہ تم کہ نہ سن لے کہیں خدا میری کہ روشناس اجابت نہیں دعا میری وہ تم کہ تم نے جفا کی تو کچھ برا نہ کیا وہ میں کہ ذکر کے قابل نہیں وفا میری چلے بھی آؤ کہ دنیا سے جا رہا ہے کوئی سنو کہ پھر نہ سنوگے تم التجا میری کچھ ایسی یاس سے حسرت سے میں نے دم توڑا جگر کو تھام کے رہ رہ گئی قضا ...

    مزید پڑھیے

    کسی کے ایک اشارے میں کس کو کیا نہ ملا

    کسی کے ایک اشارے میں کس کو کیا نہ ملا بشر کو زیست ملی موت کو بہانہ ملا مذاق تلخ پسندی نہ پوچھ اس دل کا بغیر مرگ جسے زیست کا مزا نہ ملا دبی زباں سے مرا حال چارہ ساز نہ کہہ بس اب تو زہر ہی دے زہر میں دوا نہ ملا خدا کی دین نہیں ظرف خلق پر موقوف یہ دل بھی کیا ہے جسے درد کا خزانہ ...

    مزید پڑھیے

    بجلیاں ٹوٹ پڑیں جب وہ مقابل سے اٹھا

    بجلیاں ٹوٹ پڑیں جب وہ مقابل سے اٹھا مل کے پلٹی تھیں نگاہیں کہ دھواں دل سے اٹھا جلوہ محسوس سہی آنکھ کو آزاد تو کر قید آداب تماشا بھی تو محفل سے اٹھا پھر تو مضراب جنوں ساز انا لیلیٰ چھیڑ ہائے وہ شور انا القیس کہ محمل سے اٹھا اختیار ایک ادا تھی مری مجبوری کی لطف سعی عمل اس مطلب ...

    مزید پڑھیے

    اے موت تجھ پہ عمر ابد کا مدار ہے

    اے موت تجھ پہ عمر ابد کا مدار ہے تو اعتبار ہستی بے اعتبار ہے عہد ازل پہ زندگیوں کا مدار ہے عالم تمام غم کدۂ اعتبار ہے ذرات چشم شوق ہیں آمادۂ نگاہ محرومیوں کو اب بھی ترا انتظار ہے بیداد کا گلہ تو کروں اور جو وہ کہیں یہ کہیے امتحان وفا ناگوار ہے اک یہ وفا کہ ننگ غم دوست ہے ...

    مزید پڑھیے

    ہر سانس کے ساتھ جا رہا ہوں

    ہر سانس کے ساتھ جا رہا ہوں میں تیرے قریب آ رہا ہوں یہ دل میں کراہنے لگا کون رو رو کے کسے رلا رہا ہوں اب عشق کو بے نقاب کر کے میں حسن کو آزما رہا ہوں اسرار جمال کھل رہے ہیں ہستی کا سراغ پا رہا ہوں تنہائی شام غم کے ڈر سے کچھ ان سے جواب پا رہا ہوں لذت کش آرزو ہوں فانیؔ دانستہ فریب ...

    مزید پڑھیے

    جی ڈھونڈھتا ہے گھر کوئی دونوں جہاں سے دور

    جی ڈھونڈھتا ہے گھر کوئی دونوں جہاں سے دور اس آپ کی زمیں سے الگ آسماں سے دور شاید میں در خور نگہ گرم بھی نہیں بجلی تڑپ رہی ہے مرے آشیاں سے دور آنکھیں چرا کے آپ نے افسانہ کر دیا جو حال تھا زباں سے قریب اور بیاں سے دور تا عرض شوق میں نہ رہے بندگی کی لاگ اک سجدہ چاہتا ہوں ترے آستاں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 4 سے 5