Betab Azimabadi

بیتاب عظیم آبادی

شاد عظیم آبادی کے شاگردوں میں نمایاں

A prominent disciple of Shad Azimabadi

بیتاب عظیم آبادی کی غزل

    جس کو پڑی ہو اپنے گریباں کے تار کی

    جس کو پڑی ہو اپنے گریباں کے تار کی روئے خزاں کو خیر منائے بہار کی معراج اس کو کہیے ہمارے غبار کی ورنہ یہ خاک اور ہوا کوئے یار کی پژمردہ پھول ہوں چمن روزگار کا تصویر ہوں دورنگئ لیل و نہار کی نیچی نگاہ آڑ میں مژگاں کی الامان صیاد جیسے گھات میں بیٹھے شکار کی چین جبین یار کی ...

    مزید پڑھیے

    غم سے نا اہل وفا حشر تک آزاد نہ ہو

    غم سے نا اہل وفا حشر تک آزاد نہ ہو مر کے سو بار ہو زندہ تو کبھی شاد نہ ہو اس نشیمن میں دھرا کیا ہے کہ برباد نہ ہو چار تنکے ہوں پڑے اور کوئی بنیاد نہ ہو کیا کہا تھا تری آنکھوں نے نظر ملتے وقت پھر نظر مجھ سے ملا لے جو تجھے یاد نہ ہو کوئی گاہک نہیں مرجھائے ہوئے پھولوں کا کسی سینے میں ...

    مزید پڑھیے

    ڈوب جانے کے سوا عشق میں چارا ہی نہیں

    ڈوب جانے کے سوا عشق میں چارا ہی نہیں اس سمندر کا کسی سمت کنارا ہی نہیں تلخیٔ زخم جگر جس کو گوارا ہی نہیں اس کو ناوک نگہ ناز نے مارا ہی نہیں سنتے آتے ہیں کہ اک روز قیامت ہوگی آپ نے زلف پریشاں کو سنوارا ہی نہیں پردۂ دل سے صدا یار کی آ ہی جاتی ہم تذبذب میں رہے اس کو پکارا ہی ...

    مزید پڑھیے

    ہجر میں غم کش کوئی مجھ سا نہیں

    ہجر میں غم کش کوئی مجھ سا نہیں آج تک میں نے اسے دیکھا نہیں کہنے والے نے تو سب کچھ کہہ دیا سننے والا ایک بھی سمجھا نہیں ماہ میں کس کو سناؤں حال زار خواب میں بھی وہ نظر آیا نہیں جب نظر ہو منزل مقصود پر روک سکتی راہ کی ایذا نہیں آرزو ہی اس کی دل میں رہ گئی ہاتھ دامن تک کبھی پہونچا ...

    مزید پڑھیے

    شادمانی کا کبھی غم کا کبھی جوش رہا

    شادمانی کا کبھی غم کا کبھی جوش رہا ایک سودا رہا جب تک کہ مجھے ہوش رہا جز تری یاد کے سب دل سے فراموش رہا مرتے مرتے دیوانے کو یہ ہوش رہا رخ پر نور سے بس ان کا الٹنا تھا نقاب کون کمبخت تھا ایسا کہ جسے ہوش رہا یہ بھی احساں ہے جو اس نے نہ دیا کوئی جواب شوق امید کا حامی لب خاموش رہا بے ...

    مزید پڑھیے

    دل لیے اور دکھا دکھا کے لیے

    دل لیے اور دکھا دکھا کے لیے کی جفا اور مزے جفا کے لیے رند ہم ہیں تو پھر پیے گا کون کیا یہ اتری ہے پارسا کے لیے آتش ہجر اے معاذ اللہ ایک دوزخ ہے مبتلا کے لیے جتنے دل تھے بتوں نے چھین لیے ایک کعبہ بچا خدا کے لیے ہر حسیں پر نہ یوں مٹو بیتابؔ ایک کے ہو رہو خدا کے لیے

    مزید پڑھیے

    اثر نہ کم ہو کبھی نالۂ رسا تیرا

    اثر نہ کم ہو کبھی نالۂ رسا تیرا رہے بڑھا ہوا ہر آن حوصلہ تیرا پڑھی ہے عارض و کاکل کی داستاں میں نے سنا ہے میں نے فسانہ ذرا ذرا تیرا اے اشک شوق تجھی سے ہے زندگی دل کی فزوں ہے چشمۂ حیواں سے مرتبہ تیرا تمام راہ ہے فیض قدم سے نورانی ہے ماہتاب زمیں پر کہ نقش پا تیرا قدم کو تیز کر اس ...

    مزید پڑھیے

    ذرا سوچ کر اے جفا کرنے والے

    ذرا سوچ کر اے جفا کرنے والے کہیں جی نہ چھوڑیں وفا کرنے والے گلہ کچھ نہیں مجھ کو واعظ سے لیکن یہ کون آپ کا تذکرہ کرنے والے گھمنڈ ان کو اللہ رے اتنا جفا کا تو کیا مر گئے اب وفا کرنے والے بڑے بے مروت بڑے بے وفا ہو ہمیشہ بہانہ نیا کرنے والے گلی میں تری سر بکف ہو کے آئیں کہاں ہیں مرا ...

    مزید پڑھیے

    عقل دوڑائی بہت کچھ تو گماں تک پہنچے

    عقل دوڑائی بہت کچھ تو گماں تک پہنچے کچھ حقیقت بھی ہے انساں کی کہاں تک پہنچے عشق کے شعلے بھڑک کر رگ جاں تک پہنچے آگ سی آگ ہے یہ آگ جہاں تک پہنچے لڑ گئی ان سے نظر کھچ گئے ابرو ان کے معرکے عشق کے اب تیر و کماں تک پہنچے دل سے باہر ہو ترا راز گوارا ہے کسے یہ کوئی بات نہیں ہے کہ زباں تک ...

    مزید پڑھیے

    کھٹک نے دل کی دیا زخم بے نشاں کا پتا

    کھٹک نے دل کی دیا زخم بے نشاں کا پتا نہ اس دہن میں فغاں تھی نہ تھا زباں کا پتا سر نیاز جھکانے کی خو تو پیدا کر جبین شوق لگا لے گی آستاں کا پتا ستم دبا نہ سکا آپ کے شہیدوں کو جفا مٹا نہ سکی خون بے کساں کا پتا رگ بریدہ پکارے گی نام قاتل کا کفن بتائے گا اس تیغ خوں چکاں کا پتا اسی قدر ...

    مزید پڑھیے