Arzoo Lakhnavi

آرزو لکھنوی

ممتاز قبل از جدید شاعر،جگر مرادآبادی کے معاصر

One of the leading pre-modern poets at lucknow, contemporary of Jigar Moradabadi.

آرزو لکھنوی کے تمام مواد

50 غزل (Ghazal)

    نہ کوئی جلوتی نہ کوئی خلوتی نہ کوئی خاص تھا نہ کوئی عام تھا

    نہ کوئی جلوتی نہ کوئی خلوتی نہ کوئی خاص تھا نہ کوئی عام تھا نہ کوئی حسن تھا نہ کوئی عشق تھا نہ یہی نام تھا نہ وہی نام تھا نہ کوئی تھا مکیں نہ کوئی تھا مکاں نہ کوئی تھی زمیں نہ کوئی تھا زماں نہ کوئی شرق تھا نہ کوئی غرب تھا نہ دم صبح تھا نہ سر شام تھا ازل لایزل ابد بے بدل جو بنے آج کل ...

    مزید پڑھیے

    جن راتوں میں نیند اڑ جاتی ہے کیا قہر کی راتیں ہوتی ہیں

    جن راتوں میں نیند اڑ جاتی ہے کیا قہر کی راتیں ہوتی ہیں دروازوں سے ٹکرا جاتے ہیں دیواروں سے باتیں ہوتی ہیں آشوب جدائی کیا کہیے ان ہونی باتیں ہوتی ہیں آنکھوں میں اندھیرا چھاتا ہے جب اجالی راتیں ہوتی ہیں جب وہ نہیں ہوتے پہلو میں اور لمبی راتیں ہوتی ہیں یاد آ کے ستاتی رہتی ہے اور ...

    مزید پڑھیے

    دل دے رہا تھا جو اسے بے دل بنا دیا

    دل دے رہا تھا جو اسے بے دل بنا دیا آسان کام آپ نے مشکل بنا دیا ہر سانس ایک شعلہ ہے ہر شعلہ ایک برق کیا تو نے مجھ کو اے تپش دل بنا دیا اس حسن ظن پہ ہم سفروں کے ہوں پا بہ گل مجھ بے خبر کو رہبر منزل بنا دیا اندھا ہے شوق پھر نظر امکان پر ہو کیوں کام اپنا دل نے آپ ہی مشکل بنا دیا دوڑا ...

    مزید پڑھیے

    قربت بڑھا بڑھا کر بے خود بنا رہے ہیں

    قربت بڑھا بڑھا کر بے خود بنا رہے ہیں میں دور ہٹ رہا ہوں وہ پاس آ رہے ہیں اعجاز پاک بازی حیرت میں لا رہے ہیں دل مل گیا ہے دل سے پہلو جدا رہے ہیں وہ دل سے غم بھلا کر دل کو لبھا رہے ہیں گزرے ہوئے زمانے پھر پھر کے آ رہے ہیں سینے میں ضبط غم سے چھالا ابھر رہا ہے شعلے کو بند کر کے پانی بنا ...

    مزید پڑھیے

    مرے جوش غم کی ہے عجب کہانی

    مرے جوش غم کی ہے عجب کہانی کبھی اٹھتا شعلہ کبھی بہتا پانی ہے خوشی کا سودا خلش نہانی ہے جگر کا چھالا ثمر جوانی جو خوشی ہے فانی تو ہے غم بھی فانی نہ یہ جاودانی نہ وہ جاودانی ازلی محبت ابدی کہانی کہ پس فنا ہے نئی زندگانی ستم و رضا میں یہ ہے عہد محکم جو تری کہانی وہ مری کہانی وہ ...

    مزید پڑھیے

تمام

1 نظم (Nazm)

    قومی گیت

    اے ماں اے ماں تجھ کو سلام بھارت ماتا کو پرنام تو تو کیسی پیاری ماں ہے سب ماؤں سے اچھی ماں ہے لاڈ اٹھانے والی ماں ہے اپنی ماں ہے اپنی ماں ہے ماتا کو پرنام اے ماں اے ماں تجھ کو سلام تیری مانگ میں گنگا جل ہے بھرا پرا تیرا آنچل ہے ہریالی ہے پھول ہے پھل ہے تیری گود سکھ منڈل ہے ماتا ...

    مزید پڑھیے

5 رباعی (Rubaai)