Arzoo Lakhnavi

آرزو لکھنوی

ممتاز قبل از جدید شاعر،جگر مرادآبادی کے معاصر

One of the leading pre-modern poets at lucknow, contemporary of Jigar Moradabadi.

آرزو لکھنوی کی غزل

    نہ کوئی جلوتی نہ کوئی خلوتی نہ کوئی خاص تھا نہ کوئی عام تھا

    نہ کوئی جلوتی نہ کوئی خلوتی نہ کوئی خاص تھا نہ کوئی عام تھا نہ کوئی حسن تھا نہ کوئی عشق تھا نہ یہی نام تھا نہ وہی نام تھا نہ کوئی تھا مکیں نہ کوئی تھا مکاں نہ کوئی تھی زمیں نہ کوئی تھا زماں نہ کوئی شرق تھا نہ کوئی غرب تھا نہ دم صبح تھا نہ سر شام تھا ازل لایزل ابد بے بدل جو بنے آج کل ...

    مزید پڑھیے

    جن راتوں میں نیند اڑ جاتی ہے کیا قہر کی راتیں ہوتی ہیں

    جن راتوں میں نیند اڑ جاتی ہے کیا قہر کی راتیں ہوتی ہیں دروازوں سے ٹکرا جاتے ہیں دیواروں سے باتیں ہوتی ہیں آشوب جدائی کیا کہیے ان ہونی باتیں ہوتی ہیں آنکھوں میں اندھیرا چھاتا ہے جب اجالی راتیں ہوتی ہیں جب وہ نہیں ہوتے پہلو میں اور لمبی راتیں ہوتی ہیں یاد آ کے ستاتی رہتی ہے اور ...

    مزید پڑھیے

    دل دے رہا تھا جو اسے بے دل بنا دیا

    دل دے رہا تھا جو اسے بے دل بنا دیا آسان کام آپ نے مشکل بنا دیا ہر سانس ایک شعلہ ہے ہر شعلہ ایک برق کیا تو نے مجھ کو اے تپش دل بنا دیا اس حسن ظن پہ ہم سفروں کے ہوں پا بہ گل مجھ بے خبر کو رہبر منزل بنا دیا اندھا ہے شوق پھر نظر امکان پر ہو کیوں کام اپنا دل نے آپ ہی مشکل بنا دیا دوڑا ...

    مزید پڑھیے

    قربت بڑھا بڑھا کر بے خود بنا رہے ہیں

    قربت بڑھا بڑھا کر بے خود بنا رہے ہیں میں دور ہٹ رہا ہوں وہ پاس آ رہے ہیں اعجاز پاک بازی حیرت میں لا رہے ہیں دل مل گیا ہے دل سے پہلو جدا رہے ہیں وہ دل سے غم بھلا کر دل کو لبھا رہے ہیں گزرے ہوئے زمانے پھر پھر کے آ رہے ہیں سینے میں ضبط غم سے چھالا ابھر رہا ہے شعلے کو بند کر کے پانی بنا ...

    مزید پڑھیے

    مرے جوش غم کی ہے عجب کہانی

    مرے جوش غم کی ہے عجب کہانی کبھی اٹھتا شعلہ کبھی بہتا پانی ہے خوشی کا سودا خلش نہانی ہے جگر کا چھالا ثمر جوانی جو خوشی ہے فانی تو ہے غم بھی فانی نہ یہ جاودانی نہ وہ جاودانی ازلی محبت ابدی کہانی کہ پس فنا ہے نئی زندگانی ستم و رضا میں یہ ہے عہد محکم جو تری کہانی وہ مری کہانی وہ ...

    مزید پڑھیے

    کرم ان کا خود ہے بڑھ کر مری حد التجا سے

    کرم ان کا خود ہے بڑھ کر مری حد التجا سے مجھے سوء ظن نہیں ہے کہ دعا کروں خدا سے دل مطمئن کی وسعت کوئی کم ہے ماسوا سے مجھے کاہے کی کمی ہے جو طلب کروں خدا سے ہوئی ختم غم کی آندھی وہی دل کی لو ہے اب بھی یہی شعلہ تھا وہ شعلہ کہ لڑا کیا ہوا سے کہے کون اسے پتنگا جو ہے شعلے پر دھواں سا تجھے ...

    مزید پڑھیے

    نہ کر تلاش اثر تیر ہے لگا نہ لگا

    نہ کر تلاش اثر تیر ہے لگا نہ لگا جو اپنے بس کا نہیں اس کا آسرا نہ لگا حیات لذت آزار کا ہے دوسرا نام نمک چھڑک تو چھڑک زخم پر دوا نہ لگا مرے خیال کی دنیا میں اس جہاں سے دور یہ بیٹھے بیٹھے ہوا گم کہ پھر پتا نہ لگا خوشی یہ دل کی ہے اس میں نہیں ہے عقل کو دخل برا وہ کہتے رہے اور کچھ برا ...

    مزید پڑھیے

    کسی گمان و یقین کی حد میں وہ شوخ پردہ نشیں نہیں ہے

    کسی گمان و یقین کی حد میں وہ شوخ پردہ نشیں نہیں ہے جہاں نہ سمجھو اسی جگہ ہے جہاں سمجھ لو وہیں نہیں ہے تمہارا وعدہ ہے کیسا وعدہ کہ جس کا دل کو یقیں نہیں ہے نگین بے نقش تو ہزاروں یہ نقش ہے اور نگیں نہیں ہے تصوروں کے فریب اٹھا کر مشاہدہ وہم بن رہا ہے نظر نے کھائے ہیں اتنے دھوکے کہ ...

    مزید پڑھیے

    دیکھیں محشر میں ان سے کیا ٹھہرے

    دیکھیں محشر میں ان سے کیا ٹھہرے تھے وہی بت وہی خدا ٹھہرے ٹھہرے اس در پہ یوں تو کیا ٹھہرے بن کے زنجیر بے صدا ٹھہرے سانس ٹھہرے تو دم ذرا ٹھہرے تیز آندھی میں شمع کیا ٹھہرے زندگانی ہے اک نفس کا شمار بے ہوا یہ چراغ کیا ٹھہرے جس کو تم لا دوا بتاتے تھے تمہیں اس درد کی دوا ٹھہرے عشق ...

    مزید پڑھیے

    یہی اک نباہ کی شکل ہے وہ جفا کریں میں وفا کروں

    یہی اک نباہ کی شکل ہے وہ جفا کریں میں وفا کروں اگر اس پہ بھی نہ نبھی تو پھر مرے کردگار میں کیا کروں ہے محبت ایسی بندھی گرہ جو نہ ایک ہاتھ سے کھل سکے کوئی عہد توڑے کرے دغا مرا فرض ہے کہ وفا کروں میں ہزار باتوں میں ایک بھی کبھی ان سے کھل کے نہ کہہ سکا اگر ایک طرح کی بات ہو تو ہزار طرح ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 5