نہ کوئی جلوتی نہ کوئی خلوتی نہ کوئی خاص تھا نہ کوئی عام تھا
نہ کوئی جلوتی نہ کوئی خلوتی نہ کوئی خاص تھا نہ کوئی عام تھا
نہ کوئی حسن تھا نہ کوئی عشق تھا نہ یہی نام تھا نہ وہی نام تھا
نہ کوئی تھا مکیں نہ کوئی تھا مکاں نہ کوئی تھی زمیں نہ کوئی تھا زماں
نہ کوئی شرق تھا نہ کوئی غرب تھا نہ دم صبح تھا نہ سر شام تھا
ازل لایزل ابد بے بدل جو بنے آج کل افق صد عمل
نہ کہیں تھے خفی نہ کہیں تھے جلی نہ کوئی تھا نشاں نہ کوئی نام تھا
طلب مدعا ہوس ناروا جو کبھی کچھ کہا وہ ہوئے بے مزہ
وہ بجائے جزا سخن ناسترا شجر حرص کا ثمر خام تھا
جو لگے آگ بھی تو نہ ہو ضو فشاں جو بجھے شعلہ بھی تو نہ اٹھے دھواں
نہ گلہ ہجر کا نہ صلہ عشق کا یہ وہی حکم تھا جو مرے نام تھا
جو بجھی شمع دل تو بڑھی روشنی جو پیا زہر غم تو بڑھی زندگی
یہ تو ہی اب بتا ذرا منصفی یہ ترا کام تھا کہ مرا کام تھا
سخن آرزوؔ چمن آرزو ختن آرزو عدن آرزو
یہ در بے صدف قمر با شرف نہ تہ خانہ تھا نہ سر بام تھا