تو کہتا ہے خالق شر و خیر نہیں
تو کہتا ہے خالق شر و خیر نہیں میں کہتا ہوں خالی حرم و دیر نہیں سچ ہے ترا کہنا تو مجھے کچھ نہیں خوف سچ ہے مرا کہنا تو تری خیر نہیں
ممتاز قبل از جدید شاعر،جگر مرادآبادی کے معاصر
One of the leading pre-modern poets at lucknow, contemporary of Jigar Moradabadi.
تو کہتا ہے خالق شر و خیر نہیں میں کہتا ہوں خالی حرم و دیر نہیں سچ ہے ترا کہنا تو مجھے کچھ نہیں خوف سچ ہے مرا کہنا تو تری خیر نہیں
تو نے اے انقلاب کیا خلق کیا الٹا ہوا جو نکتہ نیا خلق کیا جب کہتا تھا بندوں کا خدا خالق ہے اب کہتا ہے بندوں نے خدا خلق کیا
اس پار سے یوں ڈوب کے اس پار گئے سوتی قسمت کو کر کے بیدار گئے اتنے ہوئے تھک کے شل کہ پھر اٹھ نہ سکے ہمت نہیں ہاری جان تک ہار گئے
جب تک تکلیف دل نہیں پاتا ہے کیا کیا مانگوں سمجھ میں کب آتا ہے میں اپنی ضرورتوں کے احساس میں گم اور تو ہے کہ بے مانگے دیے جاتا ہے
کانوں کی غرض کلام بتلاتا ہے آنکھیں کیوں ہیں نظر خود جاتا ہے کیا کیا درکار ہے یہ میں کیوں سوچوں تو خود ہر چیز دے کے سمجھاتا ہے