Akhtar Gwaliori

اختر گوالیاری

اختر گوالیاری کی غزل

    رنج و غم دیتا ہے یا داد وفا دیتا ہے

    رنج و غم دیتا ہے یا داد وفا دیتا ہے دیکھنا یہ ہے زمانہ مجھے کیا دیتا ہے لوگ یہ پوچھ رہے ہیں ترے دیوانے سے کس کا دیوانہ ہے تو کس کو صدا دیتا ہے اس کی عظمت کو تو اے دوست خدا ہی جانے کوسنے والوں کو جو شخص دعا دیتا ہے جانے کس سوچ میں ڈوبا ہے مسیحا میرا زہر دیتا ہے مجھے اور نہ دوا دیتا ...

    مزید پڑھیے

    دامن زیست کو اشکوں سے بھگو لیتے ہیں

    دامن زیست کو اشکوں سے بھگو لیتے ہیں جن کو ہنسنا نہیں آتا ہے وہ رو لیتے ہیں ہر خوشی غم کے اندھیروں میں سمو لیتے ہیں دفعتاً ہم جو تری یاد میں رو لیتے ہیں ہم وہ وحشی ہیں کہ جب نیند ہمیں آتی ہے طوق و زنجیر کے پہلو میں بھی سو لیتے ہیں اب یہ عالم ہے کہ جب یاد تری آتی ہے اک ذرا دیر کو ...

    مزید پڑھیے

    جب غم دوست رگ و پے میں سما جاتا ہے

    جب غم دوست رگ و پے میں سما جاتا ہے تب کہیں جا کے دعاؤں میں اثر آتا ہے دل مرا جب بھی شب تار سے گھبراتا ہے شمع سی آ کے کوئی دل میں جلا جاتا ہے سوچتا ہوں کہ ترا درد نہ کھو جائے کہیں اب تو ہر غم مری تنہائی سے ٹکراتا ہے تم نہیں وہ بھی نہیں وہ بھی نہیں وہ بھی نہیں کون ہے پھر جو غریبوں پہ ...

    مزید پڑھیے

    تجھ سے ملنے کی آرزو ہے بہت

    تجھ سے ملنے کی آرزو ہے بہت اس لئے تیری جستجو ہے بہت زندگی کے نگار خانے میں ایک میں اور ایک تو ہے بہت ناصح محترم خدا حافظ آج اتنی ہی گفتگو ہے بہت گردش وقت تجھ سے لڑنے کو ان رگوں میں ابھی لہو ہے بہت ساری دنیا کی بیٹیاں سن لیں اس غریبی میں آبرو ہے بہت

    مزید پڑھیے

    وہ جس کے حصے میں درد جگر نہیں آتا

    وہ جس کے حصے میں درد جگر نہیں آتا اس آدمی کی دعا میں اثر نہیں آتا میں آئنہ ہوں جو دیکھوں گا وہ دکھاؤں گا فریب دینے کا مجھ کو ہنر نہیں آتا غبار راہ سے بچ بچ کے چلنے والوں کو تمام عمر شعور سفر نہیں آتا دیار زیست کو کیا ہو گیا کہ دور تلک اداسیوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا حکومتیں مری ...

    مزید پڑھیے

    ہائے یہ خوف یہ ڈر رات کہاں گزرے گی

    ہائے یہ خوف یہ ڈر رات کہاں گزرے گی دن تو کٹ جائے گا پر رات کہاں گزرے گی کوئی دیوار نہ در رات کہاں گزرے گی یوں سر راہ گزر رات کہاں گزرے گی کوئی ساتھی ہے نہ ہمدم نہ کوئی ہم سایہ اور پھر لمبا سفر رات کہاں گزرے گی اجنبی شہر میں رہ رہ کے خیال آتا ہے میری منظور نظر رات کہاں گزرے گی دن ...

    مزید پڑھیے

    ترے دیدار کی خاطر مہ و اختر جاگے

    ترے دیدار کی خاطر مہ و اختر جاگے یہ پرندے بھی ترے ہجر میں اکثر جاگے کہیں جگنو کہیں تارے کہیں منظر جاگے پھر ستانے کے لئے مجھ کو ستم گر جاگے اپنی آنکھوں میں بسا کر غم ہجراں کی کسک کاش تو بھی کبھی میرے لئے شب بھر جاگے آگ اور خون کے دریا کو روانی دینے خوگر ظلم جفا کاروں کے لشکر ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2