Masood Qureshi

مسعود قریشی

مسعود قریشی کے تمام مواد

45 غزل (Ghazal)

    ستم کا ہاتھ نہ روکا مگر برا تو کہا

    ستم کا ہاتھ نہ روکا مگر برا تو کہا جو زیر لب سبھی کہتے تھے برملا تو کہا تمام شہر تھا منکر ترے تعلق سے غریب شہر تجھے ہم نے آشنا تو کہا پگھل رہی ہے تغافل کی برف اب شاید کہ مسکرا کے مجھے یار بے وفا تو کہا وفا کا قحط ہے اتنا کہ اب سر مقتل میں اس پہ خوش ہوں کہ یاروں نے مرحبا تو ...

    مزید پڑھیے

    رقصاں شرار دل تری موج سخن سے تھا

    رقصاں شرار دل تری موج سخن سے تھا تنہائی میں یہ قرب تری انجمن سے تھا میرا سخن ہی تھا مرا سرمایۂ حیات پھر میں ہوا شہید بھی اپنے سخن سے تھا دانشوری کا زہر نہ تھا مجھ پہ کارگر میرے لباس خاص خرد کے کفن سے تھا لٹنے سے بھی سوا تھا شکست یقیں کا غم شب خوں کا احتمال تو تھا راہزن سے ...

    مزید پڑھیے

    کون مصلوب ہوا حسن کا کردار کہ ہم

    کون مصلوب ہوا حسن کا کردار کہ ہم شہرت عشق میں بدنام ہوا یار کہ ہم دن کو تھا کوچۂ دل دار میں سایوں کا ہجوم رات آئی تو گئے سایۂ دیوار کہ ہم عشق کے ربط سے ہے حسن کا پیکر تاباں کٹ کے اب آپ ہوئے نقش بہ دیوار کہ ہم شور تحسین سے ہیں خلق کے چہرے روشن سرخ رو بازوئے قاتل ہے کہ تلوار کہ ...

    مزید پڑھیے

    بستیاں چپ جو ہوئیں بن بولے

    بستیاں چپ جو ہوئیں بن بولے شہر خاموش میں مدفن بولے باغبانی کا ہے سب کو دعوے آ گیا وقت کہ گلشن بولے نوک خنجر پہ صدا تلتی ہے اب اگر بول سکے فن بولے دل پہ ہیں نقش وہ تیری باتیں جب زباں گنگ ہوئی تن بولے کوئی پیرایۂ اظہار تو ہو چپ ہیں الفاظ تو دھڑکن بولے

    مزید پڑھیے

    سب کی زباں پہ ذکر تری تند خو کا تھا

    سب کی زباں پہ ذکر تری تند خو کا تھا میرے لبوں پہ قفل تری آبرو کا تھا میں گو مگو میں ہی ترے در سے پلٹ گیا آواز دوستوں کی تھی لہجہ عدو کا تھا چارہ گروں کو فکر تھی نام و نمود کی گو اہتمام زخم جگر کے رفو کا تھا میں بحر زندگی میں جزیرہ نما رہا دنیا سے ایک ربط تری آرزو کا تھا ہر خوبرو ...

    مزید پڑھیے

تمام