زندگی اے زندگی

اس نے مجھے گھما کر رکھ دیا۔
اب تمہاری سمجھ مں آگاا ہو گا کہ مں ساری زندگی کوئی بھی تعلق ، مریا مطلب ہے کہ رومانوی تعلق کو ں نہںہ نبھا سکا۔
اس نے اپنی طرف سے قصہ ختم کاد۔
ہم یہ دھواں دھار گفتگو پچھلے تند گھنٹے سے کر رہے تھے۔ اس کا خاںل تھا مجھے سمجھا ہی ڈالے گا کہ اس کی زندگی اییر کواں تھی جیں کہ تھی ۔ اور یہ بھی کہ اس کی زندگی اییھ ہی کو ں گزری ۔
ہم تن سال سے ساتھ تھے ۔ کبھی یوں قریب آ جاتے کہ ہمارے بچ سے ہوا بھی نہ گزر سکتی ۔ یک جان و دو قالب سے بھی کہںت آگے ۔ شاید یک جان و یک قالب ۔ پھر کوئی چھوٹی سی بات اییم نکل آتی کہ یا تو اسے چپ لگ جاتی یا مجھے ۔ ہم مںک سے ایک کچھوے کی طرح اپنی گردن انا کے سخت ، بھدے اور ناقابل شکست خول مںک گھسیڑ کر قلعہ بند ہو جاتا ۔ دوسرا اپنی کوشش کی گدھ کی تزا چونچ بھی اس خول مںھ گھسیڑ کر اس کا نرم حصہ نہ ڈھونڈھ پاتا۔ اس سرد مہری اور نیمے دروں نیمے بروں کتش ک مں کئی دن گزر جاتے ۔ پھر وقت کی حدت اور تنہائی کی گھٹن براونی قلعہ بندی مںس دراڑ ڈالتی اور ذات کا گھوڑا گھمنڈ اور یکتائی کی خندق پھلانگ جاتا۔
مجھے بو گی کی زندگی گزارتے پانچ سال ہو چکے تھے اگرچہ مر ی عمر صرف پست سال تھی ۔ اپنے دکھ کے دو سال گزار کر مںچ فطری زندگی کی طرف لوٹ رہی تھی کہ ہماری ملاقات ہو گئی ۔ اس کمپنی مں دوسرے شہر تبادلے معمول نہں تھے لکنل آسامی خالی ہونے پر یا کسی عہدیدار کی درخواست پر انتظامہ زیادہ مزاحم بھی نہں ہوتی تھی۔
مںی عادتاً بڑی سنجدکہ اور ذمہ دار گردانی جاتی تھی لکن خشک یا بدمزاج ہرگز نہں ۔ موسیزا، مصوری ، فلم ، آرٹ ادب مجھے بھاتے تھے۔ طبعا کھلے دل اور کھلے ذہن کی تھی اور مررے ارد گرد کے لوگ مجھ سے ربط ضبط مںل کوئی دقّت محسوس نہں کرتے تھے ۔ مر ی پہلی محبت ، پہلا جنسی تجربہ ، شادی یا ازدواجی زندگی کا تذکرہ یہاں بے محل ہوگا۔ اسی طرح اوائل عمر یا ازدواجی زندگی کی جنسی و نفسابتی پدبت گو ں یا اس جانکاہ حادثے کا ذکر کہ جس نے مجھے بو ی سے بوکہ بنا دیا یہاں بے جا ہوگا۔
یہ بتانا بہرحال ضروری ہے کہ مں عمر کے اس حصہ مں تھی جہاں فطری جنسی تقاضوں کا دریا کناروں کو خاطر مںد نہںی لاتا ۔ جذبات شدت کی آخری حدوں کو چھوتے ہں اور یہ مدوجزر ہر ماہ کئی کئی روپ دکھاتا اور پھر دہراتا ہے ۔شرجلں مجھ سے دو تنط سال بڑا تھا اور عہدے مںپ تھوڑا سا سنئرت ۔
اس کے کراچی سے لاہور تبادلہ کی محرک اس کی اپنی خواہش سے زیادہ کمپنی کی انتظامی مجبوری تھی ۔ بہرحال ، حاصل قصہ یہ کہ وہ نہ صرف لاہور آچکا تھا بلکہ اب اسے لاہور مں آئے تنک سال اور مر ے دل مںا آئے اڑھائی سال ہو چکے تھے۔
آج ہم پھر وہ قضہا لے کر بٹھےر تھے جس نے ہمارے تعلق کو نرالاہی رنگ ڈھنگ دے رکھا تھا۔
ہم دونوں نوعمر یا ناپختہ ذہن نہں تھے پھر بھی ہم بہت ہی تزگی سے قریب آئے ۔ قریب کاب آئے ایک دوسرے مںق گر گئے ۔ اور گرے بھی اتنی تزہی سے کہ کچھ سوچنے سمجھنے کا موقع ہی نہ ملا ۔
مںی ہمشہع یہ سمجھتی تھی کہ محبت تو بس اِک خواب ہے ۔ اِک خواب ، جو چڑھتی جوانورں کے جوار بھاٹا سے بھاپ کی مانند اٹھ کر کچے ذہنوں کو گرفت کرتا ہے ۔ جو جبلی تقاضوں کا ایک ملفوف اور مستور تقاضا اور اظہار ہے ۔ مر ا خا ل تھا کہ محبت، وقت اور واقعات اس بے سمت منہ زور دھارے کو ٹھہراؤ سکون اور سمت دیتے ہںف ۔ مگر مررے ان خاالات اور اعتقادات نے خاک ہونا تھا ۔ مروی عقل نے عاجز آنا تھا اور مرےی سوچ نے اپنے عجز پر قانع ہونا تھا ۔
رشتوں مںا جسم کتنا ہے اور ذہن کتنا، دل کتنا ہے اور روح کتنی ، اس طرف کبھی دھا ن نہںا گاک تھا ۔ شرجل کے آنے ، پھر اتنی تز ی سے مرتے بہت قریب آنے اور پھر چمٹ کر رہ جانے نے عجب صورت پدرا کردی تھی ۔ ہم نہ ایک دوسرے کے ساتھ رہ سکتے تھے نہ ایک دوسرے کے بغرم۔ ہم خوب خوب لڑتے، بول چال بند ہو جاتی لکنس پھر اِک دوسرے کو ڈھونڈتے اور بات چت شروع کرنے کے بہانے بناتے ۔ ہر لڑائی کے بعد ہم اور زیادہ قریب آجاتے اور اگلی بار اور بھی زیادہ شدید لڑائی کرتے ۔
مںا جنس کو ایک ہوّا بنائے بیھزے تھی ۔ شرجلج نے مجھے سکھایا کہ یہ ہوّا نہںّ حققتل ہے ۔ خوف کھانے یا نفرت اور اجتناب کا منافقانہ ڈراما کرنے کی چزی نہںا ۔ ماننے ،تسلمج کرنے اور اہمتے دینے کی فطری چزہ ہے ۔ اس کا مطلب یہ نہںف کہ ہم اخلاقی قدروں یا معاشرتی پابندیوں کو درخور اعتنا نہںں سمجھتے تھے ۔ بس اتنا تھا کہ ہمں اپنی حدود کا پتا تھا ۔یہ ضرور ہوا کہ اس موضوع سے نہ ہم بدکتے نہ جھجھکتے یا خوف کھاتے ۔ بس اسے بھی ایک مسلمہ حققتج بلکہ خوب صورت حققتو سمجھتے ۔
اس کی پوری جمالاںت اور حسا۔ت کے ساتھ ۔
بالآخر آج کی بحث بھی اپنے اختتام کو پہنچ گئی ۔ کچھ مں۔ قائل ہوئی اور کچھ وہ ۔ کچھ مںت نہ مانی اور کچھ وہ اڑا رہا ۔ ہم اتنی لمبی بحث سے فارغ ہوئے اور اپنے اپنے ٹھکانوں کوچل دیے ۔ ایک دوسرے کے بارے مں۔ سوچتے ہوئے ۔
ہمںے کل پھر ملنا ہے ۔ مںل اپنی تنہائوکں مںہ محسوس کرتی ہوں کہ مرہے فطری تقاضوں کو کسی کی ضرورت ہے ۔ وہ 'کسی ' شرجل سے بہتر کوئی نہںم ہو سکتا ۔ اس کا خامل ہے کہ ایسا کوئی بھی تعلق ہمںر راس نہںم آئے گا اور ہم دوستی سے بھی جائں گے ۔ ہم دونوں درماہنہ طبقہ سے تعلق رکھنے کے باوجود اچھے اداروں سے پڑھے ہںں ۔ شرجلئ تو ایک آدھ ڈگری باہر سے بھی لاچکا ہے۔ ہم بہت مذہبی نہںا لکنپ مذہب ہماری عائلی اور سماجی زندگی مںس رچ بس کر لاشعوری طور پر کہںہ نہ کہںک ہمںت اپنی گرفت مںی ضرور لاتا ہے۔
مںں سخت مخمصے مںک ہوں ۔ کای مجھے شرجلو سے محبت ہو چکی ہے ؟
مںں اس سے یہ بات کروں گی تو اس کا قہقہہ فلک شگاف ہوگا۔
کل پھر اِک بحث ہوگی ۔ کل پھر دلائل چلںب گے ۔ بڑا شور شرابا ہوگا ۔ کہںو ذاتاںت بھی آجائں گی اور شاید اسی بناید پر لڑائی بھی ہو جائے۔
ہمںا ایسے ہی کرتے کراتے تنو سال گزر چکے ہںا ۔ زندگی تز ی سے گزرتی جا رہی ہے ۔
خرں دیکھتے ہںں کل کاک ہوتا ہے!!