کوئی تو لفظ سوجھے تجھے جو عیاں کرے
کوئی تو لفظ سوجھے تجھے جو عیاں کرے
کوئی تو کیفیت مجھے پورا بیاں کرے
کوئی تو تیرے حسن کے لائق ہو آئینہ
کوئی تو جانچ کر تجھے صدر جہاں کرے
کوئی ملے تو میری شب غم کی ہو سحر
کوئی تو نور وصل سے پھر صبح یاں کرے
کوئی ملے تو جنت گم گشتہ پاؤں میں
کوئی تو میرا نام بھی ورد زباں کرے
کوئی تو میرے قلب پہ وارد ہو مثل لوح
کوئی تو ختم دل میں اتر کر خزاں کرے
کوئی تو آئے باد بہاری کے سنگ سنگ
کوئی تو میرا قریۂ دل گل فشاں کرے
کوئی نگار غم میں بنے میرا ہم رکاب
کوئی شکستہ درد کا کوہ گراں کرے
کوئی تو چیخ ہو جو مرا درد کہہ سکے
کوئی تو پیش کھول کے سوز نہاں کرے