بن جانے بن پرکھے کیوں اس بت پر جان نثار کروں
بن جانے بن پرکھے کیوں اس بت پر جان نثار کروں
میرا کیا ہے میں تو جس سے مل لوں اس سے پیار کروں
لفظ تو میرے دل سے ہو کر اپنا رنگ دکھاتے ہیں
جو سوچوں لفظوں میں ڈھالوں اور اسے شہکار کروں
اپنی خواہش ظاہر کر کے کیوں ہلکا محسوس کروں
ملنے کو جب جی چاہے تو کیوں اس کا اظہار کروں
جو کیفیت دوری میں ہے اس کی اپنی لذت ہے
کیوں مل کر اس کو بھی کھو دوں خود کو بھی بیکار کروں
اس کو بغض ہے مجھ سے لیکن میرا دل بھی صاف نہیں
کیوں نہ کڑوا سچ مانوں میں کیوں اس سے انکار کروں
تم نے بھی بس وقت گزارا میں نے بھی بس باتیں کیں
تم اس کو گر سچ مانو تو میں بھی یہ اقرار کروں