ہمیں جنون دیا اور تو ہوش مند ہوا
ہمیں جنون دیا اور تو ہوش مند ہوا
اسی قرین سے یارم تو سر بلند ہوا
ہمارا نغمہ سماعت پہ کیوں گراں گزرا
کہ تیرا زہر ہلاہل ہمیں تو قند ہوا
جو جا نکلتے تھے گاہے تری گلی کی طرف
یہ جشن چشم بھی مدت ہوئی ہے بند ہوا
یہ کج کلاہ تری بارگہہ کا باج گزار
کہ اس کا تیر ترے ہاتھ کی کمند ہوا
اسے ہے راس یہ دائم مرا رکوع و سجود
مری رضا سے وہ بت خوب بہرہ مند ہوا