گلوں پر کس کی رنگت چھا گئی ہے
گلوں پر کس کی رنگت چھا گئی ہے
جو خوشبو سب چمن مہکا گئی ہے
یہ کیا مسحور کرنے والی دھن ہے
صبا کس کے یہ نغمے گا گئی ہے
دھنک یوں آسماں پر تن گئی ہے
تری صورت افق کو بھا گئی ہے
جو اب سرشار ہے تیری محبت
مرا اک راز یہ بھی پا گئی ہے
ہمیں کچھ اور اب کرنا پڑے گا
محبت سب کو کرنا آ گئی ہے