اے چاند نظر آ کہ مری عید نظر ہو

اے چاند نظر آ کہ مری عید نظر ہو
اے صبح مبیں آ کہ شب غم کی سحر ہو


یہ کیوں کہ ہر اک کار نمایاں کی مجھے داد
یہ کیا کہ مری بھول کسی اور کے سر ہو


خوش رنگ ہیں مرغان چمن لال ہے لالہ
خدشہ ہے نہ ان میں بھی مرا خون جگر ہو


تیری ہی بنائی ہوئی دنیا میں مقید
تیری ہی رضا ہو تو یہ قطرہ بھی گہر ہو


ہر پھول پہ قدغن کہ تری شکل پہ نکلے
ہر زخم پہ لازم کہ ترا دست نگر ہو