میں دشمنی ہوں محبت ہوں اجنبی ہوں میں
میں دشمنی ہوں محبت ہوں اجنبی ہوں میں
یہی ثبوت ہیں میرے کہ آدمی ہوں میں
بجھا سکے گا نہ مجھ کو تمام آب جہاں
میان دشت بہتر کی تشنگی ہوں میں
مرا خیال مری سوچ ہے کتاب مری
خدائے فکر کا بھیجا ہوا نبی ہوں میں
نگاہ کی نہ خلاف شریعت ادبی
کسی کے حسن غزل پر کہ متقی ہوں میں
مرے خیال سے روشن ہے کوہ طور ادب
اڑیں نہ ہوش تو دیکھو وہ روشنی ہوں میں
مجھی سے بولنا سیکھا ہے گونگے حرفوں نے
میں روح نطق ہوں لفظوں کی زندگی ہوں میں
لٹا رہا ہے مضامین نو کے جو انبار
زمانہ کہتا ہے کاظمؔ وہی سخی ہوں میں