سامنے جیسی چمک اور نہ جوہر دیکھا
سامنے جیسی چمک اور نہ جوہر دیکھا
آئینہ میں نے کئی بار پلٹ کر دیکھا
کبھی طوفاں کبھی ساحل کبھی گوہر دیکھا
رات بھر خواب میں پیاسے نے سمندر دیکھا
کیا ملے گا بھلا انسان کے چہرے کا سراغ
جب بھی دیکھا مجھے دنیا نے تو بے سر دیکھا
ریگ صحرا بھی اچھلنے لگی پانی کی طرح
جب سرابوں پہ کبھی پھینک کے پتھر دیکھا
درس اخلاص ہے سورج کا مقدر کاظمؔ
اتنا ہی اونچا ہوا جتنا زمین پر دیکھا